خوشبو گلاب میں خوش، پتّا شجر میں خوش ہے

خوشبو گلاب میں خوش ، پتّا شجر میں خوش ہے جو بھی ہے اپنے اپنے دیوار و در میں خوش ہے پیروں پہ جو کھڑا ہے ، یہ ہے زمین اُس کی ہے آسمان اُس کا ، جو بال و پر میں خوش ہے یہ ہجر کون جانے ، یہ بات کون سمجھے میں اپنے […]

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

یہ سانحہ مِرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا ہوا نہ جانے کہاں لے گئی […]

ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاؤں کی

آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینے لگے ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراؤں کی اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا پھر لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دعاؤں کی ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر شاخ سے ٹوٹا ہوا […]

تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے

ساری زندگی ایک مکان میں گزری ہے اس تاریک فضا میں میری ساری عمر دیا جلانے کے امکان میں گزری ہے اپنے لیے جو شام بچا کر رکھی تھی وہ تجھ سے عہد و پیمان میں گزری ہے تجھ سے اُکتا جانے کی ایک ساعت بھی تیرے عشق ہی کے دوران میں گزری ہے دیواروں […]

کبھی بُھلا کے، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے

کبھی بُھلا کے ، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے جمال قرض چُکانے ہیں عمر بھر کے مجھے ابھی تو منزلِ جاناں سے کوسوں دُور ہوں میں ابھی تو راستے ہیں یاد اپنے گھر کے مجھے جو لکھتا پھرتا ہے دیوار و در پہ نام مِرا بکھیر دے نہ کہیں حرف حرف کر کے […]