’’میں تو ہوں بلبلِ بُستانِ مدینہ اخترؔ ‘‘
زینتِ شمعِ شبستانِ مدینہ اخترؔ شوق ہیں شاہِ مدینہ کی صفت آرائی کے ’’حوصلے مجھ کو نہیں قافیہ آرائی کے‘‘
معلیٰ
زینتِ شمعِ شبستانِ مدینہ اخترؔ شوق ہیں شاہِ مدینہ کی صفت آرائی کے ’’حوصلے مجھ کو نہیں قافیہ آرائی کے‘‘
ہے کون جو کرے گا مداوائے غم یہاں جتنے تھے سب رفیق ہمارے، بدل گئے ’’جو غم میں ساتھ دیتے وہ سارے بدل گئے‘‘
راہِ طیبہ کی طرف چلتے ہوئے پھولو پھلو کیف میں جھومتے رہو اوج پہ پہنچا بخت ہے ’’جذب سے دل کے کام لو اُٹھو کہ وقتِ رفت ہے‘‘
ہر ایک سے بلند تر رتبہ اُسے تو مِل گیا حاصل اُسے بقا ہوئی اُلفت میں جو فنا ہوا ’’اُس کی خدائی ہو گئی اور وہ خدا کا ہو گیا‘‘
یورشِ کرب و ابتلا حیران دل کو کر گئی شاہِ مدینہ لیں خبر اب مجھ پہ وقت سخت ہے ’’تاب نہ مجھ میں اب رہی دل میرا لخت لخت ہے‘‘
زمانہ کس کے کرم سے ہوا ہے نورانی اُجالا پھیلا ہر اک سمت نورِ آقا سے ’’مہ و نجوم ہیں روشن منارِ طیبہ سے‘‘
کہ چارہ گر سے ہر اک درد کی دوا پائیں کبیدہ ہوں نہ کبھی بھی ستم کے دریا سے ’’صدا یہ آتی ہے سُن لو مزارِ مولا سے‘‘
سوچتے ہیں کہ اِس دل سے مٹیں غم کیسے سایۂ گیسوٗے رحمت مرے آقا دے دو ’’اپنے دامانِ کرم کا ہمیں سایا دے دو‘‘
پسند اُس کو گل کی نہ کچھ تازگی بھی کہ جو ہو گیا ہے نثارِ مدینہ ’’جنھیں بھا گیا خارزارِ مدینہ‘‘
غم و آلام سے میں ہو گیا آقا رنجور گنبدِ سبز دکھاؤ تو بہت اچھا ہو ’’اپنے قدموں میں سلاؤ تو بہت اچھا ہو‘‘