آج بھی پلکوں پہ لرزاں ہجر کا تلخاب ہے
جانے کب تقدیر میں دیدار کا نوشاب ہے تیرے دم سے رونقِ کونین ہے یا مصطفیٰ خاکِ طیبہ تیری نسبت سے ہوئی زرناب ہے اس کی آنکھوں کو فرشتے دیکھنے آتے رہے جس کی آنکھوں میں مدینے کی گلی کا خواب ہے بے شبہ میرا نبی ہے رونقِ بزمِ جہاں منبعِ انوار ہے خورشیدِ عالم […]