صُبحِ بزمِ نو میں ہے یا شامِ تنہائی میں ہے
صبحِ بزمِ نو میں ہے یا شامِ تنہائی میں ہے دل بہَر صورت ترے دستِ مسیحائی میں ہے عشق کا اعزاز تیرا التفاتِ دم بدم حُسن کا اعجاز تیری جلوہ فرمائی میں ہے تیری دہلیزِ عطا پر ہے مدارِ حرف و صوت نعت کا سارا وظیفہ خامہ فرسائی میں ہے تیری نسبت ہے کہ مل […]