وہی روحِ روانِ بزمِ امکاناتِ دو عالَم
وہی غایت، وہی مصدر، وہی منبع، وہی مَقْسَم جو مجھ سے بھی زیادہ، میری لغزش پر ہے افسردہ بجز اُس کے کہوں کس کو، کوئی ایسا نمی دانم اُسی کے در سے جُڑ جاتی ہے ہر نسبت عطاؤں کی وہی جوّاد و قاسم ہے، وہی الطف، وہی اکرم عجب اِک دیدنی عالَم ہے اُس کی […]