وفورِ خیر تھا ، سو عرضِ حال بھُول گیا

وفورِ خیر تھا،سو عرضِ حال بھُول گیا مدینے پہنچا تو تابِ سوال بھُول گیا وہ ایک لمحہ کہ پیشِ حضور ایسا تھا جُدائیوں کے سبھی ماہ و سال بھُول گیا یہ ایک ممکنہ صورت تھی اُن کی مدحت کی حروفِ عجز لکھے اور کمال بھُول گیا وہ ایک شہر بسا ہے خیال سے دل تک […]

اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم

بے مثل ہیں سب تیری شِیَم ! سیدِ عالَم مَیں خام ہُوں، خستہ ہُوں، خرابی کا مرقّع تُو ماحیٔ احساسِ الَم ، سیدِ عالَم تُو چاہے تو دے جذب کو اظہار کی نُدرت حاضر ہیں مرے نُطق و قلم ! سیدِ عالَم یہ صبح ترے عارضِ تاباں کا وظیفہ یہ شام تری زُلف کا خَم […]

جسے مدّاحِ شاہِ دوسَرا لکھا گیا ہے

اُسے اہلِ سخن کا پیشوا لکھا گیا ہے اُسے تاجِ شہی سے بڑھ کے ہے نقشِ عنایت جسے شہرِ مدینہ کا گدا لکھا گیا ہے ابھی اِک نعت چمکے گی بہ فیضِ حرفِ اقرا مرے دل پر ابھی غارِ حرا لکھا گیا ہے بِچھے تھے آسماں پر نُور کے امکان سارے مگر نقشِ کفِ پا […]

وجودِ شوق پہ اک سائباں ہے نخلِ درود

بہت کریم، بڑا مہرباں ہے نخلِ درود حلاوتوں کا وہ اِک سایہ دار خوابِ حلو لطافتوں کا حسیں گُلستاں ہے نخلِ درود کشاں کشاں اُسی جانب رواں ہیں نعت بہ لب طیورِ شوق کی جائے اماں ہے نخلِ درود عجیب اخضر و احمر ہیں اس کے برگ و ثمر ربیعِ تازہ میں گنبد نشاں ہے […]

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ

طلوعِ صبحِ مدحت کا ہُوا آغاز، بسم اللہ حرا سے کعبہ و عرشِ عُلا تک جلوہ فرمائی زمینِ دل پہ بھی فرمائیے گا ناز، بسم اللہ میانِ حشر ہوں گی جب ’’الیٰ غیری‘​‘​ کی تدبیریں کہیں گے ہم گنہگاروں کو چارہ ساز بسم اللہ اٹھے تعلیق کے نقشے جدارِ کعبۃ اللہ سے ترے نطقِ بلاغت […]

اَبجدِ کَون میں ہے جلوۂ انوارِ اَلِف

نقطہ نقطہ ہے یہاں مست بہ اَسرارِ اَلِف ہر خطِ دائرہ کِھنچتا ہے اُسی کی جانب ناز اَنداز لیے چلتی ہے پَرکارِ اَلِف معنی و حرف کا یہ ربطِ عیاں اور نہاں سب کا مَرجَع ہے فقط حُسنِ طَرَح دارِ اَلِف اِس کا ہی رَنگ ہے پھیلا سرِ قرطاسِ حُدوث گم ہے ہر شکل در […]

کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے

لوگ رستے میں ہوں اتنے تو کنارے چلئے اب تو مجبور یا مختار گزارے چلئے قرض جتنے ہیں محبت کے اتارے چلئے جس نے بخشی ہے مسافت وہی منزل دے گا ہو کے راضی برضا اُس کے اشارے چلئے اُن کے لائق نہیں کچھ اشکِ محبت کے سوا بھر کے دامن میں یہی چاند ستارے […]

زندگی کے رنگوں سے بام و در سجانے میں

ایک عمر لگتی ہے گھر کو گھر بنانے میں بام و در کو حیثیت آدمی سے ملتی ہے خالی گھر نہیں ہوتے معتبر زمانے میں نفرتوں کے بدلے میں ہم کسی کو کیا دیں گے خرچ ہو گئے ہم تو چاہتیں کمانے میں پھول کھل اٹھے دل میں، شبنمی ہوئیں آنکھیں ذکر آ گیا کس […]

گرمیِ شہر ضرورت سے پگھل جاؤ گے

نہیں بدلے ہو ابھی تک تو بدل جاؤ گے اس چمکتے ہوئے دن کو نہ سمجھنا محفوظ اپنے سائے سے بھی نکلو گے تو جل جاؤ گے گردش وقت ہے آتی ہے سبھی کے سر پر وقت گزرے گا تو اس سے بھی نکل جاؤ گے یہ محبت کے مقامات ہیں اے جان نظر اتنا […]

سر پہ رکھے گا مرے دستِ اماں کتنی دیر

باد بے درد میں تنکوں کا مکاں کتنی دیر پوچھتی ہیں مری اقدار مرے بچوں سے ساتھ رکھو گے ہمیں اور میاں کتنی دیر بجھ گئی آگ تمناؤں کی جلتے جلتے کچھ دھواں باقی ہے لیکن یہ دھواں کتنی دیر رزق برحق ہے مگر یہ کسے معلوم کہ اب رزق لکھا ہے مقدر میں کہاں […]