وفورِ خیر تھا ، سو عرضِ حال بھُول گیا
وفورِ خیر تھا،سو عرضِ حال بھُول گیا مدینے پہنچا تو تابِ سوال بھُول گیا وہ ایک لمحہ کہ پیشِ حضور ایسا تھا جُدائیوں کے سبھی ماہ و سال بھُول گیا یہ ایک ممکنہ صورت تھی اُن کی مدحت کی حروفِ عجز لکھے اور کمال بھُول گیا وہ ایک شہر بسا ہے خیال سے دل تک […]