مجھ کو حصارِ حلقۂ احباب چھوڑ کر

صحرا ملا ہے گلشن شاداب چھوڑ کر ملتی نہیں کہیں بھی سوائے خیال کے اٹھے ہیں ایسی صحبتِ نایاب چھوڑ کر سب کچھ بہا کے لے گئی اک موجِ اشتعال دریا اتر گیا ہمیں غرقاب چھوڑ کر اوج فلک سے گر گیا تحت الثریٰ میں عشق طوفِ حریمِ ناز کے آداب چھوڑ کر مسجد کی […]

وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے

برسرِ عام محبت کا تماشا مانگے جسے پندار مرے ظرفِ محبت نے دیا اب وہ پہچان محبت کے علاوہ مانگے میں تو اسرافِ محبت میں ہوا ہوں مقروض دوستی ہر گھڑی پہلے سے زیادہ مانگے راحتِ وصل بضد ہے کہ بھلا دوں ہجراں چند لمحے مجھے دے کر وہ زمانہ مانگے مدّتیں گذریں کئے ترکِ […]

سنگ آئے کہ کوئی پھول، اٹھا کر رکھئے

جو ملے نام پر اُس کے وہ سجا کر رکھئے سجدۂ عجز سے بڑھ کر نہیں معراج کوئی سربلندی ہے یہی سر کو جھکا کر رکھئے دل پہ اُترا ہوا اک حرفِ محبت نہ مٹے اسمِ اعظم ہے یہ تعویذ بنا کر رکھئے گر کے خاشاک ہوا جس میں انا کا شیشم ہے وہی خاکِ […]

منزل کو جانتا تھا، اشارہ شناس تھا

ٹھہرا نہ وہ کہیں جو نظارا شناس تھا انجام لکھ گیا مرا آغازِ عشق سے اک شخص کس بلا کا ستارہ شناس تھا ساگر کی سرکشی سے میں لڑتا تھا جن دنوں واقف ہوا سے تھا نہ کنارہ شناس تھا ہوتا نہ بے وفا تو گزرتی بہت ہی خوب میں خوگرِ زیاں، وہ خسارہ شناس […]

اُن لبوں تک اگر گیا ہو گا

شعر میرا نکھر گیا ہو گا ترکِ الفت نہیں تھی خو اُس کی میری حالت سے ڈر گیا ہو گا اعتباراُس کے دل سے دنیا کا جانے کس بات پر گیا ہو گا؟ زہر پینے سے کون مرتا ہے کوئی غم کام کرگیا ہو گا پاؤں اٹھتے نہیں دوانے کے کوئی زنجیر کر گیا ہو […]

وطنِ عزیز میں حکومت کی تبدیلی پر

ایک چہرہ بدل گیا ہو گا ایک پرچم اتر گیا ہو گا ایک دنیا سَنور چلی ہو گی ایک عالَم بکھر گیا ہو گا نشر گاہوں سے پھر فضاؤں میں وعدۂ خوب تر گیا ہو گا پھر خوشامد کا حرفِ بے توقیر سرخیوں میں اُبھر گیا ہو گا کچھ سیاسی بیان بازوں کا آج قبلہ […]

ورثۂ درد ہے تنہائی چھپا لی جائے

اپنے حصے کی یہ جاگیر سنبھالی جائے کون دیکھے گا تبسم کی نمائش سے پرے ٹوٹی دیوار پہ تصویر لگا لی جائے چہرے پڑھنا بھی اُسے آہی گیا ہو شاید غم زدہ چہرے پہ مسکان سجالی جائے اختلافات نہ بن جائیں تماشہ اے دوست بیچ میں اب کوئی دیوار اٹھا لی جائے اپنی رفتار سے […]

عشق

پیکرِ خاک میں تاثیرِ شرر دیتا ہے آتشِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے اک ذرا گردشِ ایّام میں کرتا ہے اسیر دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے پہلے رکھتا ہے یہ آنکھوں میں شب تیرہ و تار دستِ امکان میں پھر شمس و قمر دیتا ہے دل پہ کرتا ہے […]

سفر حضر کی علامتیں ہیں، یا استعارہ ہے قافلوں کا

یہ شاعری تو نہیں ہماری، یہ روزنامہ ہے ہجرتوں کا یہ رُوپ سورج کی دھوپ جیسا، یہ رنگ پھولوں کی آنچ والا یہ سارے منظر ہیں بس اضافی، یہ سب تماشہ ہے زاویوں کا ہر ایک اپنی انا کو تانے دُکھوں کی بارش میں چل رہا ہے دیارِ ہجرت کے راستوں پر عجیب موسم ہے […]

منظر وہی پرانا ہے، موسم نیا نیا

بدلا جو میں نے زاویہ، عالم نیا نیا تازہ ہے دوستی ابھی لہجے نہ جانچئے کھُلتا ہے تار تار یہ ریشم نیا نیا دل کی خلش بڑھی ہے تری قربتوں سے اور زخموں کو جیسے ملتا ہے مرہم نیا نیا ہر عکس کرچیاں سی چبھاتا ہے آنکھ میں پتھر اور آئنے کا ہے سنگم نیا […]