لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے

شاید مری ہمت کو بھنور تول رہا ہے شیریں ہے تری یاد مگر ہجر لہو میں شوریدہ ہواؤں کا نمک گھول رہا ہے پتوار بنا کر مجھے طوفانِ حوادث قامت مری پرچم کی طرح کھول رہا ہے ساحل کی صدا ہے کہ سمندر کا بلاوا گہرائی میں سیپی کی کوئی بول رہا ہے یہ وقت […]

جس کو آیا قرینہ مدحت کا

چمکا مہتاب اس کی قسمت کا دل کا احوال ہو بیاں ان سے مرحلہ آئے جب زیارت کا لب پہ میرے رہے ثنا ان کی سلسلہ یوں چلے عقیدت کا روزِ محشر وہ ساتھ رکھیں اگر لطف آجائے پھر رفاقت کا اک زیارت ہو خواب میں زاہدؔ امتحاں ہے مری سعادت کا

صدق و صفا میں کوئی ابو بکرؓ سا کہاں

پہلو نشیں بھی آقا کا ایسا کوئی نہیں تاریخ ہے گواہ کہ بعد از رسل کہیں انصاف میں عمرؓ کا بھی ثانی کوئی نہیں راہِ خدا میں مال تو سب نے دیا مگر عثمانؓ سا کہیں ملا کوئی سخی نہیں ہر ایک نے سنا ہے وہ خیبر کا معرکہ دنیا میں کوئی شیر خدا سا […]

بے سہاروں کا سہارا حضرتِ صدیقؓ ہیں

شاہ کے پہلے خلیفہ حضرتِ صدیقؓ ہیں کر دیا قرباں جنہوں نے سب خدا کی راہ میں دینِ احمد کا سفینہ حضرتِ صدیقؓ ہیں بعد آقا کے علم اونچا کیا اسلام کا دین کا نوری اجالا حضرتِ صدیقؓ ہیں تا قیامت مٹ نہیں سکتی ہے جس کی روشنی روشنی کا وہ منارہ حضرتِ صدیقؓ ہیں […]