شوریدہ بستی میں ایسی آوازوں کی بھیڑ رہی
بسنے والے رفتہ رفتہ دل کا لہجہ بھول گئے
معلیٰ
بسنے والے رفتہ رفتہ دل کا لہجہ بھول گئے
شاید مری ہمت کو بھنور تول رہا ہے شیریں ہے تری یاد مگر ہجر لہو میں شوریدہ ہواؤں کا نمک گھول رہا ہے پتوار بنا کر مجھے طوفانِ حوادث قامت مری پرچم کی طرح کھول رہا ہے ساحل کی صدا ہے کہ سمندر کا بلاوا گہرائی میں سیپی کی کوئی بول رہا ہے یہ وقت […]
شوخ لب وہ شوخ لہجہ مست آنکھوں میں شراب
اس نے جس جس کو کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
یار! تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
کون اعصاب پہ طاری ہے جناب ؟ اتنا ٹوٹا ہوا لہجہ کیوں ہے ؟
لہجہ حسین شخص کا منظر سے کم نہیں قصہ کرے بیان تو قصہ دکھائی دے اندر کی آنکھ سے بھی کبھی اس کی سمت دیکھ وہ شخص رو رہا ہے جو ہنستا دکھائی دے
چمکا مہتاب اس کی قسمت کا دل کا احوال ہو بیاں ان سے مرحلہ آئے جب زیارت کا لب پہ میرے رہے ثنا ان کی سلسلہ یوں چلے عقیدت کا روزِ محشر وہ ساتھ رکھیں اگر لطف آجائے پھر رفاقت کا اک زیارت ہو خواب میں زاہدؔ امتحاں ہے مری سعادت کا
پہلو نشیں بھی آقا کا ایسا کوئی نہیں تاریخ ہے گواہ کہ بعد از رسل کہیں انصاف میں عمرؓ کا بھی ثانی کوئی نہیں راہِ خدا میں مال تو سب نے دیا مگر عثمانؓ سا کہیں ملا کوئی سخی نہیں ہر ایک نے سنا ہے وہ خیبر کا معرکہ دنیا میں کوئی شیر خدا سا […]
شاہ کے پہلے خلیفہ حضرتِ صدیقؓ ہیں کر دیا قرباں جنہوں نے سب خدا کی راہ میں دینِ احمد کا سفینہ حضرتِ صدیقؓ ہیں بعد آقا کے علم اونچا کیا اسلام کا دین کا نوری اجالا حضرتِ صدیقؓ ہیں تا قیامت مٹ نہیں سکتی ہے جس کی روشنی روشنی کا وہ منارہ حضرتِ صدیقؓ ہیں […]