ڈرتا ہوں کسی دن نظروں کا دھوکا نہ کہیں ہو جاؤ تم

تعبیر سمجھتا ہوں تم کو، سپنا نہ کہیں ہو جاؤ تم ہر روز بدلتے ہو منزل، ہر سمت میں چلتے ہو کچھ دیر خواہش کے سفر میں رستے کا حصہ نہ کہیں ہو جاؤ تم افسانے کچھ اپنے عنواں کے برعکس بھی نکلا کرتے ہیں چہروں کی کتابیں پڑھتے ہو، ضایع نہ کہیں ہو جاؤ […]

اے وقت ذرا تھم جا، یہ کیسی روانی ہے

آنکھوں میں ابھی باقی اک خوابِ جوانی ہے کیا قصہ سنائیں ہم اس عمرِ گریزاں کا فرصت ہے بہت تھوڑی اور لمبی کہانی ہے اک راز ہے سینے میں، رکھا نہیں جاتا اب آ کر کبھی سن جاؤ اک بات پرانی ہے سچے تھے ترے وعدے، سچے ہیں بہانے بھی بس ہم کو شکایت کی […]

ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں

دل کہ مٹی کا گھروندا تھا گرا بارش میں شادیِ مرگ کو کافی تھا بس اک قطرۂ آب شہر تشنہ تو اجڑ سا ہی گیا بارش میں روشنی دل میں مرے ٹوٹ کے رونے سے ہوئی اک دیا مجھ میں عجب تھا کہ جلا بارش میں لاج رکھ لی مرے پندار کی اک بادل نے […]

معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے

شاخِ ہنر کو دیکھئے، شجرہ نہ دیکھئے شاید اسی طرح مجھے پہچان جائیں آپ لہجے کا رنگ دیکھئے، چہرہ نہ دیکھئے رستے ہیں میرے گھر کے محبت کے راستے دل کی کتاب کھولئے، نقشہ نہ دیکھئے سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے گھر دیکھئے جناب، علاقہ نہ دیکھئے دیواریں پڑھ رہے ہیں […]

زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں

کب سے چل رہا ہوں میں دہرِ ناسپاس میں چلتے چلتے خاک تن ہو گیا ہوں خاک میں تار ایک بھی نہیں اب قبا کے چاک میں دل نشان ہو گیا ایک یاد کا فقط رہ گئی ہے آنکھ میں ایک دید کی سکت زہر جو ہوا میں تھا آ گیا ہے سانس میں ذہن […]

منظر سے ہٹ گیا ہوں میں، ایسا نہیں ابھی

ٹوٹا تو ہوں ضرور، پہ بکھرا نہیں ابھی وہ بھی اسیرِ فتنۂ جلوہ نمائی ہے میں بھی حصارِ ذات سے نکلا نہیں ابھی آسودۂ خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی داغ فراقِ یار کے پہلو میں یاس کا اک زخم اور بھی ہے جو مہکا نہیں ابھی نومیدیِ […]

تمھاری گلیوں میں پھر رہے تھے اسیرِ درد و خراب ہجراں

ملی اجازت تو آ گئے پھر حضورِ عشق و جناب ہجراں وہ ملنے جلنے کی ساری رسمیں در اصل فرقت کے سلسلے تھے گئے دنوں کی رفاقتوں میں چھپا ہوا تھا سراب ہجراں مٹے نہیں ہیں حروفِ ظلمت، ابھی گریزاں ہے صبح برات ابھی پڑھیں گے کچھ اور بھی ہم دیارِ غم میں کتاب ہجراں […]

کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں

گریہ کریں کہ شکوۂ حالات ہم کریں کچھ دیر کو سہی، پہ ملے درد سے نجات کچھ دیر کو تو دل کی مدارات ہم کریں مانا کہ اُن کی بزم میں ہے اذنِ گفتگو اتنا بھی اب نہیں کہ سوالات ہم کریں جب تک ہیں درمیان روایات اور اصول دشمن سے کیسے ختم تضادات ہم […]

اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا

بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا کیسے کھلوں میں اُس پر، اِس زندگی کو جس نے بس خواہشوں میں سوچا، من مانیوں میں دیکھا […]