لَو چراغوں کی بہت کم ہے خدا خیر کرے
بادِ صرصر بڑی برہم ہے خدا خیر کرے سرِ تکیہ کوئی ہمدم بھی نہیں آج کی شب آج تو درد بھی پیہم ہے خدا خیر کرے لذّتِ دردِ نہاں سے نہیں واقف جو ذرا وہ مرا چارہ گرِ غم ہے خدا خیر کرے خوئے لغزش بھی نہیں جاتی مرے رہبر کی جادۂ راہ بھی پُرخم […]