لَو چراغوں کی بہت کم ہے خدا خیر کرے

بادِ صرصر بڑی برہم ہے خدا خیر کرے سرِ تکیہ کوئی ہمدم بھی نہیں آج کی شب آج تو درد بھی پیہم ہے خدا خیر کرے لذّتِ دردِ نہاں سے نہیں واقف جو ذرا وہ مرا چارہ گرِ غم ہے خدا خیر کرے خوئے لغزش بھی نہیں جاتی مرے رہبر کی جادۂ راہ بھی پُرخم […]

عذابِ ہجرتِ پیہم سنبھلنے دے

حصارِ بے مکانی سے نکلنے دے غبار بے سر و سامانی پردہ رکھ قبائے بے لباسی تو بدلنے دے ہوائے شہر غربت اک ذرا دھیرے چراغ شام تنہائی کو جلنے دے دیار اجنبی کے منجمد لہجے سکوتِ گوشۂ جاں میں پگھلنے دے فشارِ احتیاج زندگی مجھ کو کبھی تو کنجِ غفلت میں بہلنے دے جنونِ […]

زنجیر کس کی ہے کہ قدم شاد ہو گئے

بیڑی پہن کے لگتا ہے آزاد ہو گئے جتنے بھی حرفِ سادہ ہوئے اُس سے منتسب ہم رنگِ نقش مانی و بہزاد ہو گئے سنگِ سخن میں جوئے معانی کی جستجو گویا قلم بھی تیشۂ فرہاد ہو گئے زندہ رہے اصولِ ضرورت کے ماتحت جب چاہا زندگی نے ہم ایجاد ہو گئے خود بیتی لگتی […]

ترکِ تعلقات کا وعدہ نہ کر سکیں

چاہیں بھی ہم اگر کبھی ایسا نہ کر سکیں سر سے تمھارے عشق کا سودا نہ جا سکے تا عمر ہم کسی کو بھی اپنا نہ کر سکیں جلتے رہیں سدا یونہی رستوں کی دھوپ میں یادوں کے سائبان بھی سایا نہ کر سکیں مصروفیت تو ہو مگر ایسی نہیں کہ اب بزمِ خیال بھی […]

عیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا

رات کے پچھلے پہر نور کا پیکر اُترا میں اُسے ڈھونڈ رہا تھا کسی جانب، لیکن وہ مری روح میں ڈھل کر مرے اندر اُترا وہ عجب نام ہے جب بھی اسے جپنا چاہا وہ محمد ہے مرے لب پہ مکرّر اُترا کاسۂ دل میں تری یاد کی شبنم مہکی اُفقِ دید پہ حیرت زدہ […]

کمالِ عجز سے ہے، عجزِ باکمال سے ہے

یہ نعت ہے، یہ عقیدت کے خدو خال سے ہے مجھے بھی ناجی سفینہ میں رکھ مرے مولا مری بھی نسبتِ نوکر انہی کی آل سے ہے سخی پہ ہے وہ جسے، جیسے، جب، عطا کر دے عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے بہار کو ترے کوچے سے ہے وہی نسبت […]

وحشتِ قریۂ دل میں کوئی طلعت ہو جائے

یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے یہ کرم تھا کہ مدینے مری قسمت پہنچی اب یہ حیرت ہو مدینہ مری قسمت ہو جائے آج پھر مصحفِ مدحت سے نیا نور ملے آج پھر چہرۂ قرآں کی تلاوت ہو جائے ایک تدبیرِ مسلسل ہے مدینے کا سفر اذن مل جائے تو تدبیر کو حیرت […]

نظر نظر میں رہا ہے، نظر نظر سے فزوں

وہ تیرا روئے منور، علاجِ کربِ دروں ترے جمال کے پہرے میں کائناتِ خیال مَیں نعت کہنا تو چاہوں، کہوں تو کیسے کہوں مَیں اضطرابِ مسلسل میں ہُوں مرے آقا اُتار لمحۂ تسکیں بہ رنگِ حرفِ سکوں جہانِ حرف و معانی کی سلطنت تیری خیال و فکر کی دُنیائیں تیرے آگے نگوں گرفتِ شوقِ سفر […]

آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر

اے دلِ مضطر مدینے کا سفر تدبیر کر نعت رنگوں کی خبر ہے اور خوشبو کا سفر اِذن ہو جائے تو پھر ہر حرف کو تنویر کر صبحِ نو خود پھوٹ آئے گی سخن کی اوٹ سے شعر کے شب زاد میں مدحت کی اک تفجیر کر آبگینہ ہے یہاں دھڑکن پہ بھی پہرے بٹھا […]

نور کی اوٹ کے مابعد زیارت ہو جائے

یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے پورے الفاظ سے بنتی نہیں تصویرِ جمال اذن ہو جائے تو لکنت مری مدحت ہو جائے کاسۂ فہم میں رکھ دے کوئی ادراک کی بھیک چاہتا ہوں کسی صورت تری صورت ہو جائے قریۂ جاں میں ترے قرب کے موسم مہکیں دید کے رنگ کھِلیں، یاد کی […]