رات کے ساتھ ہی جَل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ نعت کا باب کھلا قلب و نظر پر ایسے جیسے ادراک میں رکھ دے کوئی حیرت کے چراغ یا نبی سر بہ گریباں ہے تری ’’خیرِ اُمَم‘​‘​ یا نبی بھیج کوئی پھر سے خلافت کے چراغ روشنی بجھنے کہاں دے گا عقیدت کا سفر قبر میں […]

یہ میمِ نور سے دالِ کمال باندھنا ہے

جہانِ شعر میں کیا بے مثال باندھنا ہے خدا سے مانگی ہیں قوسِ قزح کی سب سطریں کہ مَیں نے نعتِ نبی کا خیال باندھنا ہے جواب آپ نے دستِ گدا پہ رکھ چھوڑے مَیں سوچتا رہا کیسا سوال باندھنا ہے حروف، نعت کے منظر میں کیسے ڈھل پائیں حروف نے تو ابھی عرضِ حال […]

کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے

کہ تیرے نام کو جب تک رقم نہیں کیا ہے ہمیں بھی حکم تھا لغزش کے بعد توبہ کا کریم نے بھی سپردِ ستم نہیں کیا ہے خرد کو خواہشِ تابِ نظر رہی، لیکن جنوں نے دید کے منظر کو خم نہیں کیا ہے کِواڑ اُس نے بھی سارے عطا کے وا رکھے سوال ہم […]

بس ایک حاصلِ خواب و خیال، سامنے تھا

مدینہ، شہرِ جمال و کمال، سامنے تھا کوئی بھی لفظ سپردِ سخن نہ ہو پایا وجود پورا مجسم سوال سامنے تھا نگاہِ شوق ہی تابِ نظر کی جویا رہی وہ ُحسنِ تام بہ حد کمال سامنے تھا نظر پڑی جو کھجوروں کی اوٹ کے مابعد تو شہرِ جود و عطا و نوال سامنے تھا وہ […]

شکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہے

حضور آپ کی مدحت ہی استغاثہ ہے خبر ہے قاتلِ جاں کو، حریفِ حرمت کو ہمارا مرشِد و ہادی ترا نواسہؑ ہے مَیں اوڑھ لیتا ہوں پورے بدن کو خیر کے ساتھ کہ تیرا نام تمازت میں اک ردا سا ہے یہ کشتِ جاں تری رحمت شعار دید طلب یہ دشتِ دل ترے ابرِ کرم […]

حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ

اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ اُداسی دل کے دریچوں سے جھانکتی ہے تجھے بس ایک لمحے کو تو حیطۂ خرام میں آ تو میرے قریۂ جاں میں اُتار صبحِ نوید تو میرے عجز گھروندے کی ڈھلتی شام میں آ ہزار عرض و جتن کی ہے ایک ہی تدبیر تو آ، زمانوں کے […]

بجا کہ حرفِ شکستہ ہے یہ دُعا میری

ترے کرم سے تو باہَر نہیں خطا میری سجا کے لب پہ درود و سلام کے نغمے رواں دواں ہے مدینے کو التجا میری مَیں عہدِ رفتہ میں کھوئے ہوئے یہ سوچتا ہوں یہیں کہیں پہ مدینہ میں ہو گی جا میری خیالِ نعت کی چادر تنی رہے اس پر بھٹک نہ جائے کہیں فکرِ […]

زمینِ ُحسن پہ مینارۂ جمال ہے ُتو

زمینِ حسن پہ مینارۂ جمال ہے تو مثال کیسے ہو تیری کہ بے مثال ہے تو سخن کے دائرے محدود ہیں بہ حدِ طلب ورائے فہم ہے تو اور پسِ خیال ہے تو رہے گا تیرے ہی نقشِ قدم سے آئندہ جہانِ ماضی ہے تو اور جہانِ حال ہے تو کتابِ زندہ ہے تیری حیاتِ […]

مری طلب تو مری فکرِ نارسا تک ہے

یہ حرف و معنیٔ مدحت تری عطا تک ہے جہاں بھی ہوں تری رحمت کے دائرے میں ہوں مری خطا بھی تو آخر مری خطا تک ہے اُتر رہے ہیں یہ رنگوں کے قافلے پیہم ُتو اذن دے، انہیں جانا تری ثنا تک ہے خجل ضرور ہوں، نامطمئن نہیں ہوں مَیں کہ سلسلہ تری بخشش […]

قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ

حضور نعت ہوں لایا نئے خیال کے ساتھ کچھ ایسے ہی مری ہستی میں نعت ہے، جیسے چٹک اُٹھے کوئی غنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ متاعِ حرف و سخن میں کہاں وہ آب وہ تاب جو اِذن ہو تو لکھوں نعت اب دھمال کے ساتھ اسی لئے تو ہیں فطرت کے سب حوالے ُحسن کہ […]