دُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے
کہ نعت زیست ہے دستِ ُخدا میں رہتی ہے خْدا کرے مری لوحِ جبین میں چمکے وہ زندگی جو ترے نقشِ پا میں رہتی ہے لبوں کے کاسۂ عجز و نیاز میں رکھ دے عطائے خاص جو حرفِ ثنا میں رہتی ہے ہر ایک صبح ترے تذکرے سے روشن ہے ہر ایک شب ترے خوابِ […]