دُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے

کہ نعت زیست ہے دستِ ُخدا میں رہتی ہے خْدا کرے مری لوحِ جبین میں چمکے وہ زندگی جو ترے نقشِ پا میں رہتی ہے لبوں کے کاسۂ عجز و نیاز میں رکھ دے عطائے خاص جو حرفِ ثنا میں رہتی ہے ہر ایک صبح ترے تذکرے سے روشن ہے ہر ایک شب ترے خوابِ […]

حضور توبہ طلب ہوں، ُسخن ہے لرزیدہ

حضور توبہ طلب ہوں، سخن ہے لرزیدہ خطا سرشت کا پورا بدن ہے لرزیدہ تمھارے آنے کی ساعت ہے بالیقیں آقا سو قبر جھوم رہی ہے، کفن ہے لرزیدہ یہ نعت عام سی صنفِ سخن نہیں، واللہ قلم بہ دست مرا سارا فن ہے لرزیدہ مَیں پہلی بار مدینے گیا تو ایسے لگا کہ جیسے […]

حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں

مرے کریم یہ تیرے غلام حاضر ہیں جو اذن یاب ہوئے ہیں اُنہیں مبارک ہو ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں ترے حضور میں پیہم ہے قدسیوں کا نزول جو صبح اذن نہ پائے وہ شام حاضر ہیں یہ شہرِ پاک مدینہ ہے کوئی خلد نہیں ترے حضور میں سب خاص و عام […]

کبھی سُناؤں گا آقا کو اپنا بُردۂ دل

سجا کے رکھتا ہوں شب بھر مَیں اپنا غُرفۂ دل ہوائے تند مرے پاس سے ُگزر جا ُتو کسی کے دستِ اماں میں ہے میرا غنچۂ دل مَیں جوڑ لوں ذرا اشکوں سے تیری نعت کے حرف مَیں تھام لوں ذرا ہاتھوں میں اپنا خامۂ دل مرے خدا مجھے لکھنی ہے تیرے نور کی نعت […]

اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں

نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں کیا خبر بعد ازاں آنکھ کھلے یا نہ کھلے مَیں ترے خواب کو تعبیر سے پہلے لکھ لوں حرف بنتے ہوئے کچھ دیر لگے گی شاید مَیں ترے نام کو تحریر سے پہلے لکھ لوں شانۂ نور پہ رہتا ہے ستاروں کا ہجوم کیا تری زلف […]

چمنِ فکر میں مہکا ُگلِ خنداں چہرہ

راحتِ قلبِ تپاں ، شوقِ نگاراں چہرہ مہ و پروین کی تعبیر یہ نقشِ پا ہیں نور کے سارے حوالوں سے ہے تاباں چہرہ یاد کا کرب تو رگ رگ میں اُتر آیا ہے اور اس دردِ مسلسل کا ہے درماں ، چہرہ سامنے آنکھوں کے ٹھہرے تو کوئی بات بنے مر ہی جاؤں جو […]

نور کے حرف چنوں، رنگ کا پیکر باندھوں

نعت لکھنی ہو تو مہر و مہ و اختر باندھوں شاید اِس طرح کوئی نغمۂ دلکش اُبھرے آنکھ کے موتی کو جبریل کے پَر، پر باندھوں ایک منظر سے تو بنتا نہیں اُس کا منظر نور کے سارے حوالوں کو مکرّر باندھوں لب کا پیرایہ تو بے حد ہے ثقیل و جامد مَیں ترا اسم […]

لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت چپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت چپ ہے سوچتا ہوں مَیں مدینے کا سفر کیسے کروں دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ہمت ُچپ ہے ایک تبریک کی صورت میں کہی، جب بھی کہی ورنہ یہ نعت ہے اور ساری بلاغت ُچپ ہے روبرو آپ کے پھر کون رکھے حرفِ نیاز جذب و اظہار تو دیوار […]

اللہ، غنی کیسی وہ پر کیف گھڑی تھی

جب سامنے نظروں کے مدینے کی گلی تھی نظروں سے لیے بوسے کبھی ہونٹوں سے چوما اس شہر کی ہر چیز مجھے خوب لگی تھی لج پالوں کے لج پال کی چوکھٹ پہ کھڑا تھا قسمت میری اس در پہ کھڑی جھوم رہی تھی اس نعت مقدس پہ ہر اک نغمہ تصدق حسان نے جو […]

لب بستہ قضا آئی تھی، دَم بستہ کھڑی ہے

کونین کے والی ترے آنے کی گھڑی ہے اک طرفہ نظارہ ہے ترے شہر میں آقا بخشش ہے کہ چپ چاپ ترے در پہ پڑی ہے ہاتھوں میں لئے پھرتا ہوں لغزش کی لکیریں تقدیر مگر تیری شفاعت سے جڑی ہے چہرہ ہے کہ ہے نور کے پردوں میں نہاں نور زُلفیں ہیں کہ رنگوں […]