نعت ایسی بھی کوئی مجھ پہ اتاری جائے

جس کی تاثیر سے تقدیر سنواری جائے اے خیالِ شہِ کونین اگر تو نہ رہے زندگی کس کے بھروسے پہ گزاری جائے سنگریزوں کی سلامی کہیں عطر افشانی جس طرف سے شہِ طیبہ کی سواری جائے کب سے ملتی نہیں وہ خانۂ باطن میں مجھے ایسی شئے ان کے قدم پر جو نثاری جائے ایک […]

یا رب بٹھا دے گنبدِ خضرا کی چھاؤں میں

مسند یہ مانگتا ہوں ہمیشہ دعاؤں میں اک حاضری سے بڑھ گیا ہے شوقِ حاضری میں بار بار پہنچوں حرم کی فضاؤں میں آؤ چلیں حضور کا دربار دیکھنے خوشبو بسی ہوئی ہے جہاں کی ہواؤں میں شاہوں کو آرزو ہے جہاں پر گدائی کی مجھ کو شمار کر لیں وہاں کے گداؤں میں طیبہ […]

شعورِ نعت کی ترویج کے اجالے سے

ہمارا نام ہے روشن ترے حوالے سے جو تیرے در سے نظر پھیر کر میسر ہو ہمیشہ دور ہی رکھ مجھ کو اس نوالے سے یہ اعتراف ہے اپنا کہ خود کفیل نہیں فقیر لوگ ہیں پلتے ہیں تیرے پالے سے حضور حکم کریں ابنِ بوقحافہ کو پڑے ہوئے ہیں مرے ثورِ جاں میں جالے […]

حُسنِ کونین کی تزئین ہے سیرت اُن کی

ہے ہر اِک سورہ قرآں میں بھی صورت اُن کی میں ہوں انمول ورق مجھ پہ ہے مدحت اُن کی لفظ اُن کے ہیں بیاں اُن کا عبارت اُن کی عہدِ سائنس میں ہے عقل و خرد کی معراج پھر بھی ہر ایک نفس کو ہے ضرورت اُن کی تازگی برگ گل قدس کی اُن […]

تنویر مہر و مہ میں نہ حسن ضیا میں ہے

جتنا جمال مصحفِ نورالہدیٰ میں ہے وہ لہجہ نور والا ، وہ اسلوب پُر وقار وہ لفظ محترم ہے جو ان کی ثنا میں ہے جو مانگنا ہو مانگو انہیں کے طفیل سے مرضی خُدا کی میرے نبی کی رضا میں ہے اُن پر نِثار ہو کے ذرا دیکھو آئینہ آرائش حیات غمِ مُصطفیٰ میں […]

لا ریب تو لائقِ مدح و ثناء، سبحان اللہ سبحان اللہ

آقای توی در ارض و سما، سبحان اللہ سبحان اللہ انسان خطاؤں کا پتلا، ہو غرق گناہوں میں کتنا در تیرا ہے دائم اس پہ کھلا، سبحان اللہ سبحان اللہ یہ جود و کرم بندوں پہ ترا، بے پایاں رحمت کا دریا تیری یہ عنایت، دستِ غنا، سبحان اللہ سبحان اللہ والشمس دلیلِ صبحِ علم، […]

کیا کہوں میں کہ کیا محمد ہے

ایک نورِ خدا محمد ہے محفلِ قرب کی خبر کس کو واں تو اللہ یا محمد ہے یہ فقط نقصِ دید ہے ورنہ کیا خدا سے جدا محمد ہے کس کو باریک بینیاں اتنی کون سمجھے کہ کیا محمد ہے عبدِ اصنام کیوں نہ دشمن ہوں دوست اللہ کا محمد ہے عاصیانِ سقیم کو مژدہ […]

محمد نور ذاتِ کبریا ہے

خدا سے کم ہے اور سب سے سوا ہے بجز احمد یہ کس کا مرتبا ہے کہ ہر اک پیشوا کا پیشوا ہے وہ بحرِ فضل ہے اُس کا کہ جس کے ہر اک قطرہ میں اک دریا بھرا ہے وہ اصل مدعا جس کے سبب سے وجودِ آدم و حوّا ہوا ہے وہ بحرِ […]

جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے

تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے یہ سارا عالم امکاں تمہارے سامنے ہے تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے براق آپ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے فرازِ عرش پہ ایوانِ ذاتِ وحدت میں تمہارے نور کا ہالہ دکھائی دیتا ہے جہاں پہ ممکن و امکاں […]

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری نہ تیری مدح ہے ممکن مرے خیالوں سے تُو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں […]