پیکر دل رُبا بن کے آیا ، روح ارض و سما بن کے آیا

سب رسول خدا بن کے آئے ، وہ حبیب خدا بن کے آیا حضرت آمنہ کا دُلارا ، وہ حلیمہ کی آنکھوں کا تارا وہ شکستہ دلوں کا سہارا ، بے کسوں کی دعا بن کے آیا تاجداروں نے دی ہے سلامی ، بادشاہوں نے کی ہے غلامی بے مثال اس کا اسم گرامی ، […]

کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو

گوشہ بگوشہ دربدر قریہ بہ قریہ کو بہ کو اشک فشاں ہے کس لئے دیدہ منتظر میرا دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جو بجو میری نگاہ شوق میں حسن ازل ہے بے حجاب غنچہ بہ غنچہ گل بہ گل لالہ بہ لالہ بو بہ بو جلوہ عارض نبی رشک جمال یوسفی […]

نعمتیں سب ہوئیں عطا مولا

جو نہ مانگا تها وہ، ملا مولا گر چہ آتے نہیں نظر لیکن ہو حقیقت میں ہر جگہ مولا سر اگر سجدہ سے اٹھائیں ہم بندگی میں بچا ہے کیا مولا تم مرے بن گئے محافظ جب عدو ناکام ہو گیا مولا اس لیے تو زبان پر ہے حمد ہے فقط ایک آسرا مولا

عشق سرکار کا ہی کافی ہے

دل میں یہ اک دیا ہی کافی ہے اور دعاؤں کی ہم کو کیا حاجت لب پہ صلِ علیٰ ہی کافی ہے دونوں عالم کے بخشوانے کو حق ہے بس مصطفی ہی کافی ہے کیوں نہ ذکرِ نبی کروں ہر دم مجھ پہ ان کی عطا ہی کافی ہے کیسے جاؤں میں جانبِ طیبہ بہر […]

جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے

جو لفظ قرآن ہو گیا ہے ، وہ میرا ایمان ہوگیا ہے جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرّے خورشید بن گئے ہیں جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں ؟ خموش کیوں ہے نظام ہستی ملک ہیں […]

نگاہِ فکر روشن ہے طبیعت بھی منور ہے

میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو دوعالم سے بہتر ہے شفیعِ روزِ محشر ابجدِ شبیر و شبر ہے فضیلت جس کی درکِ حضرتِ عیسی سے باہر ہے حمید ہے زورِ مدحِ مصطفی کہ بادِ سر سر ہے ترا ہر لفظ جیسے کہ کوئی جبریل کا پر ہے میں کیوں جاؤں مدینہ میرا پیکر خود […]

عنایت ہے تری مجھ پر ترا احسان یا اللہ

کہ بن مانگے دیا تونے مجھے ایمان یا اللہ یہ دشت و کوہ و دریا ہیں مظاہر تیری قدرت کے جہاں کا ذرہ ذرہ ہے تری پہچان یا اللہ جہاں کے ذرے ذرے پر فقظ تیری خدائی ہے ترے آگے ہیں سجدہ ریز انس و جان یا اللہ ترے دربارِ عالی کے سوا خم ہو […]

اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ

تو ہی مَلِکْ اور بَرُّ و کَرِیْمْ خَالِقْ اور مُھَیْمِنْ تو عَدْلُ و حَکَمْ اور مُؤْمِنْ تو تو ہی مُعِزُّ و مُذِلُّ و بَصِیْرْ تو ہی سَلَامُ و عَزِیْزُ و خَبِیْرْ خَافِضُ و رَافِعْ اور وَہَّابْ جَامِعُ و مَانِعْ اور تَوَّابْ بَاعِثُ و حَقُّ و وَلِیُّ و شَہِیْدْ وَارِثُ و حَیُّ و عَلِیُّ و حَمِیْدْ […]

جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا

غلامِ مصطفی خود کو بنایا ترے فرمان کو دل میں بسایا جہاں میں مرتبہ تب ہم نے پایا خدا سے اور کیا مانگوں محمد خدا نے امتی تیرا بنایا کہ دل میں دم نہیں باقی رہا اب مدینہ بهیج دے مجھ کو خدایا ترے محبوب سے ملنا ہے مجھ کو اجل کو بهیج دے پروردگارا […]