آنکھ پتھرائی ہُوئی ہے اب کہیں اندر اُتر

شیشۂ دل میں اے عکسِ گنبدِ اخضر اتر جذب کے امکان میں لا اب کوئی موجِ طرب خواب کے احساس میں اے منظرِ دلبر اُتر اُن کو آنا ہے نئے لمحوں کی آرائش کے ساتھ میرے آنگن میں سحَر اب صورتِ دیگر اُتر سوچ بے خود، سَر نہفتہ، حرفِ مدحت منفعل نقشِ نعلینِ کرم تُو […]

عجیب رہتا ہے اب تک خمار آنکھوں میں

بسا ہُوا ہے وہ شہرِ نگار آنکھوں میں نظر میں رہتے ہیں کھِلتے ہُوئے وہ باغِ تمَر کہ جیسے رہتی ہو تازہ بہار آنکھوں میں اُنہیں زمانوں میں بستے ہیں زیست کے لمحے رکھے ہُوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں پسِ خیال اُترتے ہیں قافلے پیہم قطار باندھے وہ ناقہ سوار، آنکھوں میں […]

گلہائے عقیدت ہیں مرے اشک چُکیدہ

اوقات کہاں میری لکھوں تیرا قصیدہ بیدار ہوا تجھ سے زمانوں کا مقدر آزاد ہوئے دشت کے آشوب رسیدہ چوکھٹ پہ تری ٹوٹا فسوں طرز ِ کہن کا اک نعرہء یک رنگ بنی فکر ِ پریدہ قدموں میں ترے آن گرے کوہِ گراں بھی ہیبت سے تری خاک ہوئے تخت ِ دمیدہ اے خاصہء خاصاں، […]

زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا ، پیام آیا

جھکاؤ نظریں ، بچھاؤ پلکیں ، ادب کا اعلیٰ مقام آیا یہ کون سر سے کفن لپیٹے ، چلا ہے الفت کے راستے پر فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں یہ کون ذی احترام آیا فضا میں لبیک کی صدائیں ، ز فرش تا عرش گونجتی ہیں ہر ایک قربان ہو رہا ہے ، زباں […]

ہے یہ فرمانِ خُدا جس کی ہے عالَم میں دھمَک

یہ وہ آیت ہے جسے پڑھتے ہیں سب حور و ملَک وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک میری میّت کو نہ تم باغ و چمن میں رکھنا خاکِ طیبہ ہی فقط میرے کفن میں رکھنا تاکہ ملتی رہے جنت میں بھی طیبہ کی مہک وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک چُوم کے کہتے تھے دہلیزِ نبوّت کو بلال تیرے ٹکڑوں پہ […]

یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے

خدا کی قسم اُن کو موجود پایا جو سر کو جھکایا سویرے سویرے خبر جن کے آنے کی نبیوؑ ں نے دی تھی وہ محبوب آیا سویرے سویرے مبارک ہو اے آمنہ بی کہ تم نے بڑا اوج پایا سویرے سویرے علوم لطافت کلیم نزاکت بہار آ گئی جب وہ تشریف لائے سراپائے رحمت وہ […]