ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی (ترکی نعت)

(ترکی نعت) ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی نبی اول وقت که بالفعل گرکمزدی نبی سیدِ ابطحی و مکّی و اُمّی و ذکی هاشمی و مدنی و قُرشی و عربی سبقتِ ذات ایله ایوانِ رسالت صدری شرفِ اصل ایله فهرستِ رُسُل منتخبی عزمِ چرخ ائتدی مسیحا که بولا معراجین یئتمه‌دی منزلِ مقصودا طریقِ طلبی انبیادا […]

درِ مصطفی کے جو منگتے رہیں گے

وہ دامن خزانوں سے بھرتے رہیں گے نہ چھوٹیں گے جب تک گنہگار سارے شفاعت ہماری وہ کرتے رہیں گے رہے گا یقینا خدا ان سے راضی جو آقا کی مرضی پہ چلتے رہیں گے بڑھاتے رہے لَو جو عشق نبی کی دئیے ان کی قبروں پہ جلتے رہیں گے پڑے جن پہ پاؤں کبھی […]

وہ کون سی منزل تھی کل رات جہاں میں تھا

ہر چیز ہی بسمل تھی ، کل رات جہاں میں تھا کس شان کی محفل تھی ، کل رات جہاں میں تھا کونین کا حاصل تھی ، کل رات جہاں میں تھا ذروں کی جبینوں پر تاروں کا گماں گرا ہر شے مہِ کامل تھی ، کل رات جہاں میں تھا اک دیدہ حیراں تھا […]

صبا خیال سے رکھنا قدم مدینے میں

ہے ذرہ ذرہ چراغِ حرم مدینے میں ہوا میں آپ کی خوشبو ، فضا میں آپ کا رنگ جہانِ عشق کا بیت الحرم مدینے میں ہے قُربِ ساقی کوثر کی سلسبیل رواں مہک رہی ہے فضائے ارم مدینے میں ڈگر ڈگر میں پھرے ہیں ، نگر نگر دیکھا نشاطِ روح کو ساماں بہم مدینے میں […]

کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ

کہ میرے دل میں کھلی نعت کی کلی تازہ حرم کی تیرہ شبی جس سے مستنیر ہوئی حرا کی کوکھ سے پھوٹی ہے روشنی تازہ بہار قلب و نظر کا ہوا سماں پیدا نہال دل میں کھلیں کونپلیں کئی تازہ صدا کو زمزمہ نو حروف کو معنی ملی مغنی جاں کو بھی نغمگی تازہ ترے […]

نورِ حق نے اس طرح پیکر سنوارا نور کا

نور گویا بن گیا ہے استعارہ نور کا ہے کوئی ایسا بشر اس عالمِ امکان میں؟ سر سے پاؤں تک ہو جو اک شاہ پارا نور کا نور دل ہے، نور سینہ، نور پیکر، نور جاں نور کا سورہ ہے گویا استعارا نور کا جو حجاباتِ خداوندی میں چمکا مدتوں جالیوں سے دیکھ آیا ہوں […]

مری تشنہ لبی کی خیر ، ہوگا لُطفِ عام ان کا​

کہ بزم ان کی، شراب ان کی ، صراحی ان کی ، جام ان کا​ حرم سے لامکاں تک اُن کے نقشِ پا چمکتے ہیں​ کہ ہے کونین پر سایہ فگن حُسنِ خرام ان کا​ زمانے نے ہزاروں ٹھوکروں کے بعد سمجھا ہے​ علاجِ ظلمت ایام ہے بے شک نظام ان کا​ جنہیں طیبہ کے […]

ورفعنا لک ذکرک کی صداقت ہے عیاں

وادی بطحا سے دیں چین و عجم تک پہنچا کوئی خطہ نہیں دنیا میں جہاں پر ان کا نامِ نامی نہ ہو قرطاس و قلم تک پہنچا آج ہر ایک غلام ان کا یہ کرتا ہے دعا میرے مولی تو مجھے ان کے قدم تک پہنچا

حق تعالی نے ترے شہر کی کھائی سوگند

جب تری بات چلی قصہ قسم تک پہنچا مجھ سے پوچھے کوئی صحرائے مدینہ کی بہار اس کے رتبے کو نہ گلزار اِرم تک پہنچا ہوگا سرکار کا دیدار لحد میں اس کو حسرتِ دید میں جو ملک عدم تک پہنچا فکر دنیا غم عقبی نہیں اب اے اصغر للہ الحمد میں آقا کے قدم […]

علاج کلفتِ ہر دل فگار تو نے کیا

گرے ہووں سے ، یتیموں سے پیار تو نے کیا عطا کی تو نے فقیروں کو بھی جہانگیری جو رہ نشیں تھے انہیں تاجدار تو نے کیا سنائی دشمنِ جاں کو نوید "​لا تثریب”​ جو کر سکا نہ کوئی بار بار تو نے کیا عطا کی دیدہء بے نور دل کو بینائی حریم تیرہ ء […]