توصیفِ نبی کا مجھے مقدور نہیں ہے

چپ سادھ لوں یہ بھی مجھے منظور نہیں ہے وہ دین و شریعت ہو کہ اخلاق و محاسن کس پہلو سے آقا مرا مشہور نہیں ہے ہے نامِ مبارک سے ہی ظاہر تری عظمت اس نام میں اک حرف بھی مکسور نہیں ہے عقبیٰ میں ہے وہ باعثِ خسران و ندامت محفل میں اگر آپ […]

شوقِ دل کا وفور کیا کہیے

لب پہ نعتِ حضور کیا کہیے باعثِ ہر ظہور کیا کہیے ذاتِ پاکِ حضور کیا کہیے اک سراپائے نور کیا کہیے قامتِ آں حضور کیا کہیے عالمِ کیف و نور کیا کہیے سرو قدِ حضور کیا کہیے چاند کا ماند نور کیا کہیے چہرۂ آں حضور کیا کہیے نور و تفسیرِ نور کیا کہیے سیرتِ […]

وہ دِلاسہ تِرا دلاسہ سا

ہے اَثاثہ یا ہے اَثاثہ سا تیرا میرا نصیب ہے جیسے ایک پیاسا اور ایک پیاسا سا فون پر خامشی کا لہجہ وہ تھا شناسا یا تھا شناسا سا سانس آنا ہی زندگی کا بس ہے خُلاصہ یا ہے خُلاصہ سا بھیک کے واسطے ضروری نہیں کوئی کاسَہ یا کوئی کاسَہ سا

الفاظ و معانی کے بل پر زنہار یہ سر انجام نہیں

یعنی کہ ثنائے ختمِ رسل انسان کے بس کا کام نہیں کیا وحی جلی، کیا وحی خفی، ارشادِ خدا سب پہنچایا تا حشر خدا کے بندوں کو اب کوئی نیا پیغام نہیں اقوالِ نبی سے کھلتے ہیں اسرار و رموزِ قرآنی قرآں کے مطالب ہیں واضح اب ان میں کوئی ابہام نہیں میخانے پہ ان […]

مقدر کو مرے بخشی گئی رحمت کی تابانی

مرے حصے میں آئی ہے محمد کی ثنا خوانی محبت سرورِ کونین کی جس دل کا حاصل ہو اُسے ہو گی نہ روزِ حشرکوئی بھی پریشانی زمانہ تا ابد جُھکتا رہے کا ان کے قدموں میں جنہیں حاصل ہوئی ہے والئِ بطحا کی دربانی عرب کی عظمتیں اللہ اکبر آپ کے دم سے ہوئی صحرا […]

محمد کا حُسن و جمال اللہ اللہ

وہ اک پیکرِ بے مثال اللہ اللہ نہ اُن سے کوئی خوبرو دو جہاں میں نہ اُن سا کوئی خوش خصال اللہ اللہ خدا کا ہوا اور مہماں نہ کوئی یہ عظمت یہ رُتبہ کمال اللہ اللہ ہے زیرِ نگیں سطوتِ ہر دو عالم مُحمد کا رُعب و جلال اللہ اللہ بُتانِ عرب پہ ہوا […]

مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

سخنور گر یہی فن ہے تو پھر دیوانگی کیا ہے جنون و کرب میں اوہام کو الہام کہتا ہوں فقط خفقان کا عالم ہے ورنہ شاعری کیا ہے سخن کیا ہے؟ مہذب نام ہے بکواس کرنے کا معزز طرزِ دریوزہ گری ہے، زندگی کیا ہے تخیل ہے کہ عریاں عالمِ وحشت میں پھرتا ہے اگر […]

جب بھی سپاہیوں سے پیمبر کا پوچھیے

خندق کا ذکر کیجیے خیبر کا پوچھیے بدر و احد کے قائدِ لشکر کا پوچھیے یا غزوہ تبوک کے سرور کا پوچھیے ہم کو حنین و مکہ و موتہ بھی یاد ہیں ہم امتی بانی رسم جہاد ہیں​ رسم جہاد حق کی اقامت کے واسطے کمزور و ناتواں کی حمایت کے واسطے انصاف ، امن […]

دامان تار تار ، گریباں پھٹے ہوئے

لوٹے ہیں گردِ راہ ِ وفا سے اٹے ہوئے تم نے چھوا تو ٹوٹ کے ریزے بکھر گئے ہم اپنی خواہشوں میں کھڑے تھے بٹے ہوئے ہم صرف اک تخیلِ آوارہ گرد ہیں مدت ہوئی ہے ذہنِ رساء سے کٹے ہوئے دل سے ترے خیال کی تصویر بھی گئی دیوار کا نصیب فقط چوکھٹے ہوئے […]

ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ

اب جنونِ عشق کا مرہم تلاشہ جائے گا آئیگا وہ وقت جس کی آس تک موہوم ہے جائے گا یہ درد جو ہے بے تحاشہ ، جائے گا پھر ترے کوچے کی رونق ہیں فدایانِ جنوں جس طرف جائے تماشہ گر، تماشہ جائے گا کب تلک مالِ غنیمت میں جواہر آئیں گے معرکہ گاہوں سے […]