دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے

درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے میں بس یونہی تو نہیں آگیا ہوں محفل میں کہیں سے اذن ملا ہے تو حاضری ہوئی ہے جہانِ کن سے ادھر کیا تھا، کون جانتا ہے مگر وہ نور کہ جس سے یہ زندگی ہوئی ہے ہزار شکر غلامانِ شاہِ بطحا میں شروع دن سے مری […]

جو خود سپردگی تھی جنوں کی اساس میں

اب ممکنات میں نہ قرین قیاس میں اعصاب مرتعش تو سماعت میں شور ہے لایا گیا ہوں کھینچ کے ہوش و حواس میں عریاں ہوئے نہ عیب بہرحال شکر ہے پیوند بے شمار ہیں چاہے لباس میں کس کس کے بوکھلا کے گلے سے نہیں لگا کتنے ہی ہاتھ تھام کے دیکھے ہراس میں کاسے […]

پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے

میرا ہی ہاتھ تھام کے رویا گیا مجھے میں سخت جان جھیل گیا طنزیہ ہنسی سو میرے آنسووں میں ڈبویا گیا مجھے کہنے کو چشم نم سے بہایا گیا ہوں میں لیکن پلک پلک میں پرویا گیا مجھے آخر کو میں سفید لبادے ہہ داغ تھا مل مل کے اضطراب میں دھویا گیا مجھے پھوٹوں […]

آرزو موجزن ہے نس نس میں

اور کچھ بھی نہیں مرے بس میں ضبط میں پھول پھل رہا ہے جنوں تم نے شعلہ دبا دیا خس میں میں نبھانے چلا تھا رسموں کو میں نبھاتا ہی رہ گیا رسمیں کاٹ کھانے کو دوڑتی ہیں مجھے میں نے کھائی تھیں جس قدر قسمیں تم بھی حق دار ہو برابر کے بانٹ لیتے […]

مجھے منظر سے پس منظر بنانے کے سفر میں

تمہارے حسن کو ہلکان ہونا پڑ گیا ہے نبھانی پڑ گئیں اس طور کم آمیزیاں تیری دل کم بخت کو ویران ہونا پڑ گیا ہے بدل دینی پڑی ہے سمت مجبوراً مسافت کی مجھے موجود سے امکان ہونا پڑ گیا ہے اگر دالان بے رونق دکھائی دے تو یہ سمجھو مجھے دہلیز پر قربان ہونا […]

وہ ایک پھول کھلا تھا جو ریگ زاروں میں

اسی کے حسن سے سب رنگ ہیں بہاروں میں وہ ایک شمع کہ روشن ہوئی تھی غاروں میں وہ چاند بن کے ہوئی منعکس ستاروں میں کہوں ببانگِ دُہل بے جھجھک ہزاروں میں حبیبِ رب ہے محمد خدا کے پیاروں میں کلام آپ کا جامع، فصیح و پُر تاثیر ادب شناس گنیں اس کو شاہ […]

نہ ہے اِدّعائے سخن وری، نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو

میں ثنائے ختمِ رسل لکھوں، کہ ہے ذکر جس کا چہار سو یہ خدا کی دین ہے جس کو دے، وہ عطا ہوئی اسے شکل و خو نہ مثال اس کی کہیں ملے، نہ مثیل اس کا ہے ہو بہ ہو میں یہ کہہ رہا ہوں بہ قبلہ رُو، نہیں اس میں شائبۂ غُلو ہے […]

ہم اپنے اعمال پہ اپنے اندر ڈوب کے مر جاتے ہیں

جیسے سورج روز افق میں جا کر ڈوب کے مر جاتے ہیں اس کوٹھی میں رہنے والے جانے ایسا کیا کرتے ہیں۔ کوئی پوچھے تواس گھر کے نوکر ڈوب کے مر جاتے ہیں ”میری تیراکی کے آگے دریا بھی پانی بھرتا ہے” ایسا دعویٰ کرنے والے اکثر ڈوب کے مر جاتے ہیں ساحل کا احسان […]

نورِ چشمِ آمنہ عظمت نشاں بنتا گیا

جانِ عبد اللہ سردارِ جہاں بنتا گیا حق نما، حق آشنا، حق کی اذاں بنتا گیا وہ کتابِ آخریں کا ترجماں بنتا گیا خوش ادا، شیریں سخن، معجز بیاں بنتا گیا رفتہ رفتہ سب کے دل کی داستاں بنتا گیا بارگاہِ لم یزل کا راز داں بنتا گیا مرحبا آگاہ سِرِّ کن فکاں بنتا گیا […]

گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے

مجھے محبت سے کوئی روکے مجال کیا ہے؟ سوال یہ ہے وفا بھی میری،ادا بھی میری، دغا بھی میری، جفا بھی میری تو پھر محبت میں یار تیرا کمال کیا ہے؟ سوال یہ ہے ہیں بال بکھرے، ہے چال بہکی، یہ کون ہے آئینے میں میرے؟ اور اس سے بڑھ کر کہ اس کے گالوں […]