یومِ میلادِ حضرت پہ لاکھوں سلام

اس کی ایک ایک ساعت پہ لاکھوں سلام زلف و رخ قد و قامت پہ لاکھوں سلام ہاشمی ماہِ طلعت پہ لاکھوں سلام اس کی قرآنی سیرت پہ لاکھوں سلام مظہرِ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام آفتابِ نبوت پہ لاکھوں سلام ماہِ گردونِ رفعت پہ لاکھوں سلام پیکرِ استقامت پہ لاکھوں سلام اس ہمالائے ہمت […]

اس سے پہلے کہ ہوا شور مچانے لگ جائے

میرے اللہ میری خاک ٹھکانے لگ جائے گھیرے رہتے ہیں کئی خواب میری آنکھوں کو کاش کچھ دیر مجھے نیند بھی آنے لگ جائے تو ضروری ہے کہ میں مصر سے ہجرت کر جاؤں جب زلیخا ہی میرے دام لگانے لگ جائے سال بھر عید کا راستہ نہیں دیکھا جاتا وہ گلے مجھ سے کسی […]

کیا رونقِ محفل تھی کل رات جہاں میں تھا

اک ہستی کامل تھی کل رات جہاں میں تھا آسودگی دل تھی کل رات جہاں میں تھا جاں فائزِ منزل تھی کل رات جہاں میں تھا ہاں دید کے قابل تھی کل رات جہاں میں تھا محفل سی وہ محفل تھی کل رات جہاں میں تھا نظارۂ پر حیرت انوار و تجلی کا خاموشی کامل […]

یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟

جواب دے کوئی مجھ کو اگر یہاں کوئی ہے وہ جو بھی ہے،مجھے ہونے نہ دے گا تیرا کبھی پتہ نہیں ہے مگر اپنے درمیاں کوئی ہے ترا غرور مجھے پا کے کچھ غلط بھی نہیں یہاں پہ مجھ سے زیادہ حسیں جواں کوئی ہے؟ یہ دشمنوں کو گلہ ہے کہ ان کے بچنے کو […]

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے

سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے جب سے تو نے ہلکی ہلکی باتیں کیں یار طبیعت بھاری بھاری رہتی ہے پاؤں کمر تک دھنس جاتے ہیں دھرتی میں ہاتھ پسارے جب خودداری رہتی ہے وہ منزل پر اکثر دیر سے پہنچے ہیں جن لوگوں کے پاس سواری رہتی ہے چھت سے اس کی دھوپ […]

کھڑے ہیں مجھکو خریدار دیکھنے کے لیے

میں گھر سے نکلا تھا بازار دیکھنے کے لیے ہزاروں بار ہزاروں کی سمت دیکھتے ہیں ترس گئے تجھے ایک بار دیکھنے کے لیے قطار میں کئی نابینا لوگ شامل ہیں امیر شہر کا دربار دیکھنے کے لئے جگائے رکھتا ہوں سورج کو اپنی پلکوں پر زمیں کو خواب سے بے دار دیکھنے کے لئے […]

ایک دو آسمان اور سہی

اور تھوڑی اڑان اور سہی شہر آباد ہوں درندوں سے جنگلوں میں مچان اور سہی دھوپ کو نیند آ بھی سکتی ہے چھاؤں کی داستان اور سہی بارشوں حوصلے بلند رہیں میرا کچا مکان اور سہی یہ پسینہ تو اپنی پونجی ہے ایک مٹھی لگان اور سہی غلطیوں سے نوازتا ہے مجھے ایک اہل زبان […]

ہر مسافر ہے سہارے تیرے

کشتیاں تیری کنارے تیرے تیرے دامن کو خبر دے کوئی ٹوٹتے رہتے ہیں تارے تیرے دھوپ دریا میں روانی تھی بہت بہہ گئے چاند ستارے تیرے تیرے دروازے کو جنبش نہ ہوئی میں نے سب نام پکارے تیرے بے طلب آنکھوں میں کیا کیا کچھ ہے وہ سمجھتا ہے اشارے تیرے کب پسیجینگے یہ بہرے […]

تو کیا بارش بھی زہریلی ہوئی ہے

ہماری فصل کیوں نیلی ہوئی ہے یہ کس نے بال کھولے موسموں کے یہ رنگت کس لئے پیلی ہوئی ہے سفر کا لطف بڑھتا جا رہا ہے زمیں کچھ اور پتھریلی ہوئی ہے سنہری لگ رہا ہے اک اک پل کئی صوبوں میں تبدیلی ہوئی ہے دکھایا ہے اگر سورج نے غصہ تو بالو اور […]