کام کو آدھا کر لیتے ہیں

عشق زیادہ کر لیتے ہیں درد سے جب بھر جائے دل تو اور کشادہ کر لیتے ہیں پیار تو وہ بھی کرتے ہیں پر ہم کچھ زیادہ کر لیتے ہیں میں اور دشمن فرض کا اپنے روز اعادہ کر لیتے ہیں ہجر کی لمبی راتوں کو ہم کاٹ کے آدھا کر لیتے ہیں شاہ گرانا […]

میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا

قتِیل دشت میں قاتِل سمیت مارا گیا تمہارے حُسن کی تشہیر کر رہا تھا رقیب سو میرے ہاتھ سے محفِل سمیت مارا گیا چلا تھا عِشق کا جو جِن اتارنے ہمزاد عمل سے پیشتر عامِل سمیت مارا گیا بڑا فساد ہوا عِشق کی ضمانت پر وکیل اپنے موکِل سمیت مارا گیا مجھے تو فکر ہے […]

پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی

کامل نہ ہو ثنائے شہِ دو سرا کبھی روشن ہوئی جو شمع بہ غارِ حرا کبھی تھی با خدا وہ زینتِ عرشِ عُلا کبھی بجلی چمک اٹھی جو دیے مسکرا کبھی موتی برس پڑے جو تکلم کیا کبھی میرے نبی کی طرح کوئی جامع الصفات خلّاقِ دوجہاں نے نہ پیدا کیا کبھی باتیں وہ ہیں […]

مرے رب نے مجھے بخشا سلیقہ نعت گوئی کا

نہیں ہے ورنہ کچھ آساں ثنائے مصطفیٰ لکھنا وہ جب خورشیدِ عالم تاب نکلا نور برساتا لپیٹا بوریہ بستر ضلالت نے، بشر جاگا نرالی شان ہے اس کی، نہیں اس سا کوئی پیدا وہ محبوبِ خدا، شمعِ ہدیٰ، وہ صاحبِ اسرا ہے سیرت اس کی پاکیزہ، نہایت ارفع و اعلیٰ کہا ہے عینِ قرآں عائشہؓ […]

لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق

میری طرف بھی آ ذرا پروردگارِ عشق جب اپنی داستانِ محبت کو لکھ چکا تو اِس کے بعد مر گیا ناول نگارِ عشق محرم نہیں ہیں آپ تو مت دیکھئے مجھے چُھونے کی اور بات ہے نقش و نگارِ عشق ہم دو پہ آج شام یوں گُزرا غضب کا عِشق الفاظ ڈھونڈتا رہا نامہ نگارِ […]

اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق

میں دب کے رہ گیا ہوں کہیں زیرِ بارِ عشق کچھ قافیوں کے پھل لگے کچھ لاحقوں کے پھول ٹہنی غزل کی دینے لگی برگ و بارِ عشق یہ میرا معترف تھا کبھی معتقد بھی تھا بھرتا ہے کان آج کل جو میرے بارے عشق تم صرف فائدے میں رہو میرے حصے دار؟ ایسے کہاں […]

نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو

اک عشق ایسا کہ جو فسانوں سے مختلف ہو زباں پکڑ کر جو دل کو بدلے ہو میری تسبیح میں ایک دانہ جو سارے دانوں سے مختلف ہو وہی پرندہ نہ اڑنے پایا جو چاہتا تھا اڑان ایسی جو سب اڑانوں سے مختلف ہو دکھاؤں سب کو اگر تو چھوڑے نشان ایسا مرے بدن پر […]

چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے​

ان کو ارض و سماء دیکھتے رہ گئے​ ہم درِ مصطفیٰ دیکھتے رہ گئے​ نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے​ جب سواری چلی جبرئیل امیں​ صورتِ نقشِ پا دیکھتے رہ گئے​ وہ گئے عرش پر اور روح الامیں​ سدرۃ المنتہی دیکھتے رہ گئے​ نیک و بد پہ ہوا ان کا یکساں کرم​ لوگ اچھا […]

صریرِ خامۂ فطرت کا تو ہی نقشِ اعظم ہے

تری عظمت خدا کے بعد اک امرِ مسلّم ہے حریمِ نازِ حسنِ لم یزل کا تو ہی محرم ہے نقوشِ پا سے رخشندہ جبینِ عرشِ اعظم ہے تمہارے جدِّ امجد کی بدولت آبِ زمزم ہے تمہارے دم سے کعبہ قبلۂ ابنائے آدم ہے تمہارا دیں قبولِ حق، مدلّل اور محکم ہے مفصل، منضبط، مربوط، کامل، […]

جب تک بہ ذکرِ خیرِ شہِ مرسلیں رہے

میری زباں پہ چاشنی انگبیں رہے در سایۂ ملائکۂ مُکرَمیں رہے محفل وہ جس میں تذکرۂ شاہِ دیں رہے میری دعاؤں میں یہ دعا اوّلیں رہے کلمہ زباں پہ اس کا دمِ واپسیں رہے معراجِ مصطفیٰ کا خیالِ حسیں رہے کچھ ساعتوں کو دل یہ بہ عرشِ بریں رہے پیشِ نگاہ جس کے بھی عرشِ […]