کروں ذکر اُن کی عظمت کا، مری اوقات ہی کیا ہے
بھروں دم اُن کی چاہت کا، مری اوقات ہی کیا ہے کروں دعویٰ محبت کا، مری اوقات ہی کیا ہے میں اُن سے اپنی نسبت کا، مری اوقات ہی کیا ہے
معلیٰ
بھروں دم اُن کی چاہت کا، مری اوقات ہی کیا ہے کروں دعویٰ محبت کا، مری اوقات ہی کیا ہے میں اُن سے اپنی نسبت کا، مری اوقات ہی کیا ہے
ایک دن ۱۴ اکتوبر کے نام رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے .. . . . یہ حوضِ کوثر بہتا ہے ….. اسکا پانی ٹھنڈا میٹھا اور شفاف ہے … اور پینے والا خوبصورت سنہری آنکھوں والا نوجوان وہ گھنے باغات میں رہتا ہے جہاں یخ بستہ ہوائیں چلتی ہیں … […]
مجھ سے گر اک شام سہانی کھو جائے طیش کا عالم اور نگاہوں میں آنسو جیسے اِک راجہ کی رانی کھو جائے تم چہرا ڈھلنے سے پہلے لوٹ آنا شاید مجھ سے مِری جوانی کھو جائے حیرت جھانک رہی ہے گم سم آنکھوں سے جیسے اُسکی آنکھ کا پانی کھو جائے پاگل بن کر سر […]
احباب گرامی محترم جناب عام و خاص یہ واقعات پچھلے پانچ سال سے بتدریج بلا کسی تأخر و تبدل کے پے در پے وقوع پذیر ہوئے چلے جا رہے ہیں اس بار ہم نے سوچا کہ حالات و واقعات پیش خدمت کئیے دیں کیا جانیے چھٹے سال سنانے کے لیئے زندہ رہویں یا وہ ظالم […]
وہی روحِ روانِ مقبلاں ہیں وہی حاجت روائے سائلاں ہیں ظفرؔ وہ قبلہ گاہِ عاشقاں ہیں
میرے احساس سے خفا رہنا
محبت کا جہاں پیشِ نظر ہے سفر جس کی ہو منزل شہر آقا سفر وہ ہی وسیلۂ ظفرؔ ہے
محبت کا جہاں آباد رکھنا مرے لب پر سدا اللہ اکبر مرے دل میں نبی کی یاد رکھنا
قلوبِ عاشقاں پر آپ کی رحمت برستی ہے زمانے فیض یاب اُن سے، کرم اُن کا جہانوں پر خدا کی بھی ہے جو ممدوح، مرے آقا کی ہستی ہے
مرا محبوب ہے وہ جو حبیبِ کبریا ہے ظفرؔ وہ ہی مسیحائے ہمہ مُردہ دِلاں ہے مریضِ جاں بلب کو بھی وہی دیتا شفا ہے