اِک زمانہ فراق میں گزرا
رُخِ روشن کی اِک جھلک مولا میرا سویا نصیب جاگ اُٹھا خواب میں دیکھ کر رُخِ زیبا
معلیٰ
رُخِ روشن کی اِک جھلک مولا میرا سویا نصیب جاگ اُٹھا خواب میں دیکھ کر رُخِ زیبا
ہر وقت مدینے کی فضا دیکھ رہا ہوں اِک ذرۂ ناچیز پہ یہ اُنؐ کا کرم ہے میں کیا ہوں ظفرؔ اور میں کیا دیکھ رہا ہوں
نقش پا اُن کا میرے سر کے لیے اِک جھلک میرے کملی والے کی روشنی چشمِ بے بصر کے لیے
میرے آقا، میرے مولا، رحمۃ اللعالمیں حُسنِ صورت، حُسنِ سیرت، حُسنِ کردار و عمل آپ سا کوئی نہیں ہے آپ سا کوئی نہیں
اور کچھ آرزو نہیں میری آپ کے در سے پیار پایا ہے بات بگڑی بنی یہیں میری
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
مری نعتوں میں سلاموں میں نکھار آپ سے ہے ایک ہو جائیں مسلمان سبھی دُنیا کے مری فریاد ظفرؔ میری پُکار آپؐ سے ہے
میں کسی سے بے خبر ہوتا گیا
گاڑی فراٹے بھرتی جارہی ہے ۔ جب آپ سفر میں ہوتے ہیں تو تیزی سے منزل کی طرف رواں ہوتے ہیں ۔۔۔ بہت سے مقامات ‘ کردار افراد پیچھے رہتے جاتے ہیں ذہن کے پردے پہ یادوں کی ریل چلتی ہے اور آوازوں کی باز گشت دل کے سبھی تاروں کو چھیڑ دیتی ہے ۔ […]
یا سجا دیا کسی بے حسی کی دکان پر ترا درد مجھ سے خفا نہ ہو کے گزر پڑے ترا نام لینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا جو شکار کرنے کو آگئے وہ اُجڑ گئے کہ کسی نے تیر چلا دیا ہے کمان پر وہ جو کر رہا ہے مری حیات کے فیصلے وہی شخص، […]