اُسے خبر تھی

اسے خبر تھی مجھے ہجر راس آتا ہے اسے پتا تھا اداسی سے دوستی ہے مری اسے خبر تھی سبھی درد یار ہیں میرے وہ جانتا تھا مری غم سے ہے سلام دعا اسے خبر تھی سبھی زخم مجھ پہ سجتے ہیں سو ان سبھی کے لیے اس نے مجھ کو چھوڑ دیا کہیں وہ […]

یہ شہر والے بھی توبہ تائب دکھائی دیں گے

وہ ایک جادو کرے گا ، غائب ، دکھائی دیں گے ہماری آنکھوں پہ اسم پھونکا گیا ہے صاحب ہمیں زمانے کے سب معائب دکھائی دیں گے ہماری رائے ہے معتبر اس کو رد نہ کرنا یہ مشورے عنقریب صائب دکھائی دیں گے یہاں خدا کی تو ایک سنتا نہیں ہے کوئی یہاں پہ سب […]

یوں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتے ہیں

جیسے مسجد میں تروایح پڑھا کرتے ہیں یوسفِ عشق تجھے علم ہے کس رغبت سے دل کے مکتب میں یہ تلمیح پڑھا کرتے ہیں پہلی فہرست میں بس آپ کا نام آتا ہے پھول چہروں کی جو تشبیہ پڑھا کرتے ہیں آپ فرقت ہی لکھا کرتے ہیں ہر کاغذ پر اور ہم وصل کو ترجیح […]

ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط

دھتکارنے والی ہوں میں سب خواب ، لگی شرط اے شام کے بھٹکے ہوئے ماہتاب ، سنبھل کر ہے گھات میں بستی کا یہ تالاب ، لگی شرط اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے یہ بات ہے تو آج سے احباب ، لگی شرط پھر ایک اسے فون میں رو رو کے کروں […]