ہمارے گاؤں میں بھی بن گئی ہے موٹر وے
تمہارے شہر میں پل بھر قیام سے بھی گئے
معلیٰ
تمہارے شہر میں پل بھر قیام سے بھی گئے
گھر کے اندر بھی ہے ماحول اداسی والا کوئی تو ایسی لگا ضرب مجھے کومل جو توڑ کے رکھ دے مرا خول اداسی والا
مرے تعویذ الٹے پڑ گئے ہیں
انا کی رزم کا شاعر میں کچی خام پاگل سی وہ پختہ عزم کا شاعر مری غزلوں سے ہے نسبت وہ عمدہ نظم کا شاعر ہوا زیر و زبر کیسے؟ وہ پیش اور جزم کا شاعر مری مجلس بھی مجھ جیسی وہ اونچی بزم کا شاعر
ہمارے خواب کسی اور کی امانت ہیں ہمیں یہ کہہ کے اداسی نے کردیا پھیکا یہ رنگ و آب کسی اور کی امانت ہیں دنوں مہینوں رتوں اور موسموں میں کٹے یہ سب حساب کسی اور کی امانت ہیں سوال ، عشق کا کرنے سے پیشتر سن لے مرے جواب کسی اور کی امانت ہیں […]
میں فاقہ کاٹ لوں گی ، نوکری نہیں کرونگی
کسی سے رزق سخن مانگ کر نہیں کھایا
میں نے کبھی بھی دشت کو جنگل نہیں کہا اس شخص پہ بھی ہو کوئی تعزیر ، چپ رہا پر وقت کے حصار کو مقتل نہیں کہا دریائے عمر ، عمر بھر چلتا نہیں رہا ساکت ہوا بھی تو اسے دلدل نہیں کہا اے کم نصیب شخص تو خود کھو گیا کہیں میں نے تو […]
تختِ ادب کا ایک سکندر علیل ہے
تماشہ دیکھنے والوں کے دائرے کی طرح