ربط اخلاص سے زیادہ ہے

ضبط بھی پیاس سے زیادہ ہے خاص ہوتے ہیں زندگی میں لوگ اور تو خاص سے زیادہ ہے جسم پہ اوڑھ لی ہے غربت جو جسم پہ ماس سے زیادہ ہے زخم تو چوٹ سے بھی گہرا ہے درد احساس سے زیادہ ہے مجھ سے وہ اس قدر گریزاں ہے بے بسی آس سے زیادہ […]

حویلی والوں کی حاکمیت و شاہ زوری کا مسئلہ ہے

سبھی ملازم ڈرے ہوئے ہیں سنا ہے چوری کا مسئلہ ہے ہر اک ڈرامے میں عشق رسوا و خوار ہوتا دکھا رہے ہیں ہر اک کہانی میں آج کل صرف کالی گوری کا مسئلہ ہے میں اپنی آنکھوں کو بند رکھوں تو پھر اثاثہ بچا سکوں گی یہ خواب میرے لئے تو جیسے کھلی تجوری […]

جھگڑنا کاہے کا ؟ میرے بھائی پڑی رہے گی

یہ باپ دادا کی سب کمائی پڑی رہے گی اندھیرے کمرے میں رقص کرتی رہے گی وحشت اور ایک کونے میں پارسائی پڑی رہے گی ہوا کی منت کرو کہ گھر کے دئیے بجھے تو اداس ہو کر دیا سلائی پڑی رہے گی ہماری نظروں سے اور اوجھل اگر ہوئے تم زمانے بھر کی یہ […]

جو نیست ہو چکا تھا عشق ہست کیسے ہوگیا

مری اسیریوں کا بندوبست کیسے ہوگیا بڑا ہی عام تھا کبھی مرا غلام تھا کبھی کمال ہے وہ شخص خود پرست کیسے ہو گیا اسے نصیب تھیں محبتوں میں دلنوازیاں وہ خودکفیل آج تنگدست کیسے ہوگیا ابھی تو وقت کی کوئی خراش بھی نہیں پڑی تو پھر غرور آئینوں کا پست کیسے ہوگیا یہ کس […]

بچھڑنے والے کی باتوں کا دہرانا نہیں بنتا

اگر خاموش رہتی ہوں تو افسانہ نہیں بنتا کہانی کار تھوڑی دیر قصہ جاری رہنے دے کہ بالکل درمیاں آکر تو مرجانا نہیں بنتا انہیں آواز دے دے کر پرندے خود بلاتے ہیں کوئی مرضی سے ان پیڑوں کا دیوانہ نہیں بنتا تم ایسے نرم رو چہرے پرستانوں میں جچتے ہیں ادھر اک دشت ہے […]

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، چھت پر میں حسب معمول گئی

اس کو ہنستے دیکھا اور پلکیں جھپکانا بھول گئی ساری رات کی جاگی آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں پوچھ نہ کیسے کام سمیٹے اور کیسے اسکول گئی دونوں نے جینے مرنے کی قسمیں ساتھ اٹھائی تھیں لڑکے کے اب دو بچے ہیں ، لڑکی چھت سے جھول گئی وقت نے ایسی گرد اڑائی عمریں یونہی […]

اکثر آتے جاتے حاصل ایک سعادت ہوجاتی ہے

اس کی آنکھیں پڑھ لیتے ہیں اور عبادت ہوجاتی ہے ہم ملتے تھے چاند ، ہوا ، بادل اور جھیل نے دیکھا ہوگا چار گواہ اکٹھے ہوں مقبول شہادت ہو جاتی ہے دکھ بھی بچے جن سکتے ہیں میرے چاروں جانب دیکھو ہر شب میرے کمرے میں آہوں کی ولادت ہو جاتی ہے پھولوں کا […]

ارادے خستہ ، قدم شکستہ، شنید ہجرت

مزید ہجرت ، مزید ہجرت ، مزید ہجرت ہمارے خیموں کی تھوڑی قیمت لگانے والے ہمارے دیوار و در کی قیمت خرید ، ہجرت معاش کی فکر ایک چھلنی میں ڈال دی تھی اور اب ہمیں کرنا پڑ رہی ہے کشید ہجرت یہ پاوں لگتا ہے گردشوں سے بندھے ہوئے ہیں نہیں ہے خانہ بدوشیوں […]