بے حس نہ تھے کہ اتنے خساروں پہ ناچتے

کب تک ہوائے غم کے اشاروں پہ ناچتے اک روز دل کو جھڑکا بہت ورنہ اہل عشق درویش بن کے ہم بھی مزاروں پہ ناچتے یہ رقص اندمال کی تھی شرط ، کی قبول لازم تھا خاردار سی تاروں پہ ناچتے ہم پر لگاتے قہقہے منظر قریب کے اور لوگ ہم سے بخت کے ہاروں […]

بٹ گئے فرقوں میں کیسے یار لوگ

چھے مخالف اور حق میں چار لوگ ؟ میرا مسلک عشق ہے ، درویش میں مجھ سے ناخوش ہیں یہ دنیادار لوگ اس لئے باتوں میں آجاتی تھی میں فطرتا”​ سادہ تھی میں ، مکار لوگ چند خوابوں کی ہوئی نہ دیکھ بھال سب ہی نکلے غیر ذمے دار لوگ پھر نیا رخت سفر باندھا […]

بخت جب کرب کے سائے میں ڈھلا ہو بابا

ہم فقیروں کی دعا ہے کہ بھلا ہو بابا کیا پتہ اس کو ہو پچھتاوا بچھڑ جانے پہ ہاتھ افسوس سے اس نے بھی ملا ہو بابا اس کا کیا جس کو تپش تھوڑی لگے سورج کی پاؤں جس شخص کا چھاؤں میں جلا ہو بابا اس لئے مڑ کے کئی بار تلاشا یونہی کیا […]