تم ان کو رو رہے ہو جو پت جھڑ میں جھڑ گئے
اور ہم جو سبز رت میں جھڑے جا رہے ہیں یار
معلیٰ
اور ہم جو سبز رت میں جھڑے جا رہے ہیں یار
کب تک ہوائے غم کے اشاروں پہ ناچتے اک روز دل کو جھڑکا بہت ورنہ اہل عشق درویش بن کے ہم بھی مزاروں پہ ناچتے یہ رقص اندمال کی تھی شرط ، کی قبول لازم تھا خاردار سی تاروں پہ ناچتے ہم پر لگاتے قہقہے منظر قریب کے اور لوگ ہم سے بخت کے ہاروں […]
چھے مخالف اور حق میں چار لوگ ؟ میرا مسلک عشق ہے ، درویش میں مجھ سے ناخوش ہیں یہ دنیادار لوگ اس لئے باتوں میں آجاتی تھی میں فطرتا” سادہ تھی میں ، مکار لوگ چند خوابوں کی ہوئی نہ دیکھ بھال سب ہی نکلے غیر ذمے دار لوگ پھر نیا رخت سفر باندھا […]
میرے مرنے پہ بھی مضمون لکھا جائے گا
ہم فقیروں کی دعا ہے کہ بھلا ہو بابا کیا پتہ اس کو ہو پچھتاوا بچھڑ جانے پہ ہاتھ افسوس سے اس نے بھی ملا ہو بابا اس کا کیا جس کو تپش تھوڑی لگے سورج کی پاؤں جس شخص کا چھاؤں میں جلا ہو بابا اس لئے مڑ کے کئی بار تلاشا یونہی کیا […]
رجے وڈے لوکیں دے جو کتے پئن اتھاں خالی گوچن دھاڑیں ماری پئے بال پروتھی روٹی کھا تے ستے پئن
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں
نعت ہو گی رقم حبیبِ خُدا نعت لکھتے ظفرؔ ہے اشک افشاں ضو فشاں ہے قلم حبیبِ خُدا
بے سہارا ہیں ہم حبیبِ خدا آپ جب سر پہ ہاتھ رکھتے ہیں درد جاتا ہے تھم حبیبِ خدا
سب زمانوں نے دیکھا بھالا ہے اِک نگاہِ کرم ظفرؔ پر بھی آپ کا نام لینے والا ہے