اپنی اس بھول پر بہت خوش ہوں
میں تجھے بھول کر بہت خوش ہوں
معلیٰ
میں تجھے بھول کر بہت خوش ہوں
اور ہوتے ہیں جو مَحفِل میں خموش آتے ہیں آندھیاں آتی ہیں جب حضرتِ جوشؔ آتے ہیں
اتنی نفرت میں کروں تجھ سے کہ تو کانپ اٹھے
اتنا نہ اٹھا سر کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے یعنی میرا مطلب ہے یہ دستار وغیرہ
آپ میری ذات کا جتنا تماشہ کیجئے کب تلک روئیں گے میت رکھ کے اپنے سامنے بس سپرد خاک ان خوابوں کا لاشہ کیجئے آپ کی اس بے حسی نے مار ڈالا ہے مجھے بیٹھ کر اب میرے جیسے بت تراشا کیجئے فرق پڑنا ہی نہیں ہے آپ کی فطرت سے اب پل میں تولہ […]
آپ دستار اُٹھاو تو کوئی فیصلہ ہـو لوگ کہتے ہیں کہ سر ہوتے ہیں دستاروں میں
چہرے پہ کچھ ملال ہے اور دل اسیر رنج اپنے پروں کا کس قدر مجھ کو غرور تھا میری اڑان آسماں کی وسعتوں میں تھی چاروں طرف بساط سے بڑھ کر تھی سرخوشی لیکن کسی کو راس کب آتی ہے زندگی جتنی طلب ہو ، پاس کب آتی ہے زندگی پوروں پہ جتنے درد ہیں […]
آج کل نیند بھی اذیت ہے وقت بے وقت آنکھ کھلتی ہے پھر یونہی رات کے گذرنے کا اک تماشہ سا دیکھتی ہوں میں وقت تصویر کر گیا ہے مجھے اب نہ آواز ہے نہ بینائی کتنی خاموش بے بسی ہوں میں ٹوٹ کر چاہنے کی خواہش میں ٹوٹ کر چور ہو گئی ہوں میں […]
کیوں نہ تنویرؔ پھر اظہار کی جرأت کیجے خامشی بھی تو یہاں باعث رسوائی ہے
کرو انساں کو راضی، اس طرح راضی خدا ہو گا خدا خالق ہے مخلوقات سے وہ پیار کرتا ہے کرو ذی جاں کو راضی، اس طرح راضی خدا ہو گا