کبھی سر سے کبھی دستار سے بو آتی ہے

لڑنے والے ترے کردار سے بو آتی ہے سب مریضوں سے محبت ہے مسیحاؤں کو ایک تم ہو جسے بیمار سے بو آتی ہے کسی لڑکی کے تڑپنے کے نشاں واضح ہیں خوں بہا ہے یہاں دیوار سے بو آتی ہے اپنی چاہت کو بیاں اور کسی رنگ سے کر لفظ پیارا ہے مگر پیار […]

محبت کر عطا اپنی خدایا، شعور و آگہی، ایمان دے دے

مرا ایمان محکم ہو خدایا، تیقن دے مجھے ایقان دے دے میں تیرا نام لے کر جھوم اُٹھوں، بصیرت کر عطا، وجدان دے دے عطا عشقِ حبیبِ کبریا ہو، سرُور و سرخوشی، عرفان دے دے