کرم فرما، خدائے کریم ہے تُو
رحم فرما، خدائے رحیم ہے تُو ترا مسلک ہی عفو و درگزر ہے کہ ہے ستار تُو اور حلیم ہے تُو
معلیٰ
رحم فرما، خدائے رحیم ہے تُو ترا مسلک ہی عفو و درگزر ہے کہ ہے ستار تُو اور حلیم ہے تُو
لڑنے والے ترے کردار سے بو آتی ہے سب مریضوں سے محبت ہے مسیحاؤں کو ایک تم ہو جسے بیمار سے بو آتی ہے کسی لڑکی کے تڑپنے کے نشاں واضح ہیں خوں بہا ہے یہاں دیوار سے بو آتی ہے اپنی چاہت کو بیاں اور کسی رنگ سے کر لفظ پیارا ہے مگر پیار […]
ہے تُو اشعار میں، افکار میں تُو مساجد میں بھی تُو، دربار میں تُو چھُپا ہے کوچہ و بازار میں تُو
محبت کی خدا نے انتہا کی محبت منفرد، ممتاز یکتا حبیبِ کبریا سے کبریا کی
مرا ایمان محکم ہو خدایا، تیقن دے مجھے ایقان دے دے میں تیرا نام لے کر جھوم اُٹھوں، بصیرت کر عطا، وجدان دے دے عطا عشقِ حبیبِ کبریا ہو، سرُور و سرخوشی، عرفان دے دے
خدایا شُکر کے جذبات عطا کر خدارا حمد کہنے کا سلیقہ پسند آئے تجھے جو بات عطا کر
خدا کی یاد میں ہر پل گزارو دگرگوں حالتِ اُمت سنوارو خدا کے دین پر جاں اپنی وارو
مقدس حجر اسود کو پیاپے چومنا اچھا ظفرؔ مخلوق کی خدمت کرو، راضی خدا ہو گا خدا کا فیض پاکر، شکر کرنا جھومنا اچھا
خدا نے کام ہر بگڑا سنوارا خدا کو جب بھی طوفاں میں پکارا بھنور میں ہو گیا پیدا کنارا
جنم اِنسان کا، اللہ کی قدرت ظفرؔ بچوں کو دی ماں کی محبت کرم رحمان کا، اللہ کی قدرت