سدا حمد و ثناء جاری و ساری
فضاؤں میں بھی سُن لو حمدِ باری ظفرؔ یادِ خدا میں وقت گزرے رہے حمدِ خدا سے اُستواری
معلیٰ
فضاؤں میں بھی سُن لو حمدِ باری ظفرؔ یادِ خدا میں وقت گزرے رہے حمدِ خدا سے اُستواری
خیالوں پر بھی چھایا اسمِ ربی مُنور ہیں فضائیں، خوشبوئیں ہیں ظفرؔ کیا رنگ لایا اسمِ ربی
کوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکے اہل گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں
خدا موجود ہر جا ہر کہیں ہے جہاں حمدِ خدا، نعتِ نبی ہو خدا میرا وہاں مسند نشیں ہے
قبیلِ عاشقاں، وابستگاں میں حصارِ مقبلاں، وارفتگاں میں اُجالا کر مرے قریۂ جاں میں
وفورِ شوق دے، جذبِ درُوں دے محبت یا خدا بندوں کو اپنی ظفرؔ کو یا خدا عشقِ فزوں دے
سعادت حمدِ یزداں کی، ثنائے مصطفیٰ کی مرے مقدُور میں لکھ دے بیاں کرنا عیاں کرنا بڑائی ربِّ اکبر کی، حبیبِ کبریا کی
خدائے اِنس و جاں امداد فرما خدائے بیکساں امداد فرما خدائے عاجزاں امداد فرما
خدا دم دم میں ہے روحِ رواں میں خدا بندے کے قلب و جسم و جاں میں خدا عشاق کے قلبِ تپاں میں
خدا نے کام ہر بگڑا سنوارا خدا سب سے مکرم سب سے پیارا خدا لطف و کرم کا بہتا دھارا