مدینہ کا سفر جاری و ساری

تمھاری آج، کل میری ہے باری صحابہؓ کس قدر تھے خوش مقدر مشرف دید سے تھے عمر ساری سکھائی آپ نے بھٹکے ہوؤں کو مُروّت، حِلم، عجز و غم گساری سبق توحید کا اُن کو پڑھایا محبت سے سکھائی اُستواری عیاں اُن پر ہوئی عظمت خُدا کی اُنھوں نے دین پر جاں اپنی واری سنواری […]

قلب و جاں میں سمائے رہتے ہیں

وہ خیالوں پہ چھائے رہتے ہیں آپ کی یاد بھی عبادت ہے آپ سے لو لگائے رہتے ہیں ایسے عُشاق ہیں جو مستی میں دِل مدینہ بنائے رہتے ہیں اُن تہی دامنوں پہ نظرِ کرم جو جہاں کے ستائے رہتے ہیں وہ جو اُن کے فقیر ہوتے ہیں دھوپ میں اُن پہ سائے رہتے ہیں […]

فلک پر ربِّ کعبہ، شافعِ محشر سے ملتا ہے

زمیں پر خانہ کعبہ، روضۂ اطہر سے ملتا ہے درِ کعبہ، درِ سرکار، دونوں قبلہ گاہیں ہیں عطا کرتا ہے جو اللہ، نبی کے در سے ملتا ہے شعور اللہ کی عظمت، جمالِ مصطفائی کا درِ اقدس سے ملتا ہے، خُدا کے گھر سے ملتا ہے خُدا کے نور کا محکم حوالہ نورِ یزداں کا […]

صاحبِ حُسن و جمال! آیا ہوں

بے بسی کی مثال، آیا ہوں مُجھ پہ سرکار ایک نگہِ کرم میں پریشان حال آیا ہوں میں تہی دست، برگِ آوارہ عکسِ حزن و ملال آیا ہوں ہیں مجسم عطا مرے آقا میں مجسم سوال آیا ہوں دِل میں سرکار اب قدم رکھیں سب کو دِل سے نکال آیا ہوں ہجر کی تلخیوں سے […]

شاہِ بطحا! مجھے نظر دے دیں

میں ہوں نادان کچھ خبر دے دیں آپ تک میری عرض پہنچائیں میری آہوں میں یہ اثر دے دیں پیار دیں، عشق دیں، محبت دیں اپنے الطاف کا نگر دے دیں آپ جس کو پسند فرمائیں کوئی ایسا مجھے ہنر دے دیں آپ کے پاس بار بار آؤں مری قسمت میں یہ سفر دے دیں […]

سارے عالم آپ کے زیرِ اماں زیرِ نگیں

رحمۃ اللعالمیں یا رحمۃ اللعالمیں پیکرِ جُود و سخا، فیض و عطا، صادق امیں رحمۃ اللعالمیں یا رحمۃ اللعالمیں آپ کے دم سے محبت، عشق و مستی کو ثبات نورافشاں سب زماں کون و مکان و شش جہات آپ کے در پر خمیدہ سر مرا میری جبیں رحمۃ اللعالمیں یا رحمۃ اللعالمیں آپ امام الانبیا، […]

رُخ روئے مُنوّر کا جدھر آپ نے پھیرا

کھُل برسے گا رحمت کا اُدھر ابر گھنیرا چھٹ جائیں گی تاریکیاں اُس نورِ مُبیں سے ماحول کو چمکائے گا پُرنور سویرا سرکار کی اِک نگہِ کرم سے ہے فروزاں دِل جس پہ مسلط تھا گھٹا ٹوپ اندھیرا سرکار کے قدموں میں جو لمحات گزارے اُن لمحوں پہ ہے مان مجھے ناز ودھیرا اُونچا رہے […]

رنج و آلام جب ستائیں گے

ہم درِ مصطفی پہ جائیں گے اُن کے درِ پر جبیں جھُکائیں گے زندگی بھر نہیں اُٹھائیں گے تکتے جائیں گے گنبدِ خضریٰ پیاس نظروں کی ہم بجھائیں گے آپ کے نقشِ پا کی خاکِ شفا شہرِ طیبہ سے لے کے آئیں گے ساری دُنیا کے عالم و فاضل آپ کے در سے نُطق پائیں […]

ذِکرِ سرکار ہر زباں پر ہے

نگہِ سرکار ہر جہاں پر ہے اُن کا سایا ہے سب زمانوں پر نقشِ پا اُن کا آسماں پر ہے اُن کی رحمت ہے عالمیں کے لیے اُن کا احسان ہر زماں پر ہے جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں ایک میلہ سا آستاں پر ہے جس جگہ اُن کا نقشِ پا دیکھا میں نے […]

ذِکرِ سرکار آؤ عام کریں

تشنہ کاموں کو شاد کام کریں ذِکرِ خیر البشر عبادت ہے آپ کا ذِکر صبح و شام کریں حمد و نعت و ثنا، درُود و سلام یہ عمل روز و شب مدام کریں آپ قدموں میں بھی بُلا لیں گے ہم سفر کا تو اہتمام کریں سر نِگوں، سر بلند ہو جائیں اُن کے قدموں […]