جبیں میری ہے، اُن کا سنگِ در ہے

محبت کا جہاں، پیشِ نظر ہے کہاں تابِ سخن، ایسے میں گویا مرا قلبِ تپاں ہے، چشمِ تر ہے نہیں بے چارا و بے آسرا میں مری سرکار، میری چارا گر ہے مرے مُونس، مرے خیر الوریٰ ہیں مرا ہمدم، مرا خیر البشر ہے میں اِس الطاف کے قابل کہاں تھا کرم اُن کا ہے، […]

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا مرے آس پاس کی مفلسی مری معذرت ترا انتظام میں اپنے گھر نہیں […]

آپ کے آستاں پہ جاتے ہیں

نعمتیں سب وہیں سے پاتے ہیں ناتواں جاں میں جان آتی ہے آپ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں آپ سنتے ہیں داستانِ الم آپ کو حالِ دِل سناتے ہیں آپ ہی روح و جاں کے محور ہیں قلب میں آپ کو بساتے ہیں پیاسے ہونٹوں سے جالیاں چھو کر پیاس برسوں کی ہم بجھاتے ہیں […]

آپ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپ سے عشق پیار سب کا ہے ربِّ اکبر درُود پڑھتا ہے یہ وظیفہ نہ جانے کب کا ہے مانگتا ہوں میں اُن سے پیار اُن کا میرا انداز یہ طلب کا ہے چاند سورج ہیں تابعِ فرماں سلسلہ جن سے روز و شب کا ہے اُن کے ہر نقشِ پا پہ سر رکھنا عاشقی […]

آئے، اللہ کے حبیب آئے

جاگے انسان کے نصیب، آئے خیمہ زن چار سو اندھیرے تھے آپ ہی نور کے نقیب آئے بوریا جن کا تختِ شاہی تھا آئے سادہ مگر نجیب آئے مشکلیں دُور ہو گئیں ہم سے آپ کے در کے جب قریب آئے خاکِ بطحا سے جو علاج کرے کاش ایسا کوئی طبیب آئے جو بتائے رموزِ […]

یہی فرمانِ محبوبِ خدا ہے

خدا معبود ہے، حاجت روا ہے خدا خالق ہے، مالک ہے، قوی ہے وہی قیّوم، دائم ہے، سدا ہے خدا لاثانی و بے مثل، یکتا وہ واحد، منفرد، سب سے جدا ہے خدا روزی رسانِ عالمیں ہے ہر اک نعمت وہی کرتا عطا ہے خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر سمندر، کوہ و بن، صحرا، […]

یہ بھی موسم کی کوئی سازش نہ ہو

ابر ہو لیکن یہاں بارش نہ ہو اس قدر بھی چاہنا کیا چاہنا عشق شدت سے ہو اور خواہش نہ ہو ایسی غربت کو خدا غارت کرے پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو تم تو یوں ضد پر اتر آئے ہو آج آخری خواہش ہو فرمائش نہ ہو گل کو خوشبو سے اگر ناپا گیا […]

یار بجا یار نہیں رہ گئے

راستے ہموار نہیں رہ گئے خیر پرندے تو پلٹ آئیں گے لوگ تو اس پار نہیں رہ گئے تم جہاں تصویر بنے بیٹھے ہو ہم وہاں دیوار نہیں رہ گئے یہ تو ازالہ ہے نئے زخم کا اور جو آزار نہیں رہ گئے وقت سے پہلے ہوئے تیار ہم وقت پہ تیار نہیں رہ گئے […]

ٹھہرنا بھی مرا جانا شمار ہونے لگا

پڑے پڑے میں پرانا شمار ہونے لگا بہت سے سانپ تھے اس غار کے دہانے پر دل اس لئے بھی خزانہ شمار ہونے لگا ہجوم سارا رہا کر دیا گیا لیکن مرا ہی شور مچانا شمار ہونے لگا پھر ایسے ہاتھ سے مانوس ہو گئی تسبیح گنے بغیر بھی دانہ شمار ہونے لگا وہ سنگ […]