اردوئے معلیٰ

آج معروف نعت گو شاعر بہزاد لکھنوی کا یومِ پیدائش ہے ۔

بہزاد لکھنوی(پیدائش: 1 جنوری 1900ء – وفات: 10 اکتوبر 1974ء)
——
قلمی نام بہزاد لکھنوی اصل نام سردار حسین خاں والد کا نام سجاد حسین خان ہے۔
آپ لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد ریاست رام پور کے رہنے والے آفریدی نسل تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا ریلوے میں ٹی ٹی آئی ہو گئے۔ اختلاج قلب کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا۔1932ء میں آل انڈیا ریڈیو میں ملازم ہو گئے۔ 1942ء میں استعفا دے کر پنچولی آرٹ پکچر لاہور میں ملازمت کر لی۔ کچھ عرصہ بعد واپس لکھنؤ چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آ گئے اور وہیں انتقال ہوا۔
——
مجموعے
——
نغمۂ روح
نغمۂ نور ،دہلی،ساقی بُک ڈپو ،ت ن ، 127 ص (شاعری)
موج ِطہور ،دہلی،ساقی بُک ڈپو ، 1941ء ، 104 ص (شاعری)
کیف و سرور ،،دہلی،ساقی بُکڈپو ، 1940ء ، 200 ص (شاعری)
موجِ نور ،دہلی،علیمی پریس،بار چہار، 1937ء، 78 ص (100 گیت)
کرم بالائے کرم کراچی،مدینہ پبلشنگ کمپنی،
بت کدہ
چراغ طور ،دہلی،ساقی بُک ڈپو،1941ء، 192 ص (شاعری)
آہِ نا تمام ،ممبئی،مکتبہ سلطانی، ت ن، 152 ص (شاعری)
بُستانِ بہزاد ،دہلی، میخانۂ اُردو ، ، ص (شاعری)
نغماتِ بہزاد ،دہلی، میخانہ اُردو ، ت ن، ص 111 (شاعری)
کفر و ایمان ،لاہور، اُردو اکیڈیمی ، بار سوم 1945ء ، 127 ص (شاعری)
بیانِ حضور ،دہلی،ساقی بُک ڈپو، ت ن،192 ص (منظوم سیرت)
——
بہزاد لکھنوی از رفیع الزمان زبیری
——
بہزاد لکھنوی کا ہمارے نعت گو شعرا میں ایک نمایاں مقام ہے۔ نعت گوئی کی اعلیٰ استعداد کے ساتھ انھیں خوش الحانی کی نعمت بھی عطا ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی کے بقول ان کے ہاں تغزل کا انداز ہے جس میں ڈھل کر نعت اعجاز بن جاتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : پاک ہوتی ہے زباں تو شاد ہو جاتا ہے دل
——
ریڈیو پاکستان کی آواز لائبریری کے شعر و ادب کے شعبے میں بہزاد لکھنوی کی شمیم رحمانی سے ایک طویل گفتگو کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ بہزاد صاحب نے پہلے تو اپنی ایک نعت کے یہ شعر سنائے:
——
مدینے جاؤ تو اتنا پیام کہہ دینا
کہ ہند میں ہے تپاں اک غلام کہہ دینا
جو تجھ سے پوچھیں کہ وہ کون شخص ہے بتلا
تو اُن سے چپکے سے بہزاد نام کہہ دینا
——
پھر یہ بتایا کہ ان کی شاعری کی ابتدا کیسے ہوئی اور انھوں نے اپنا تخلص بہزاد کیسے رکھا۔ کہنے لگے:
’’ میرا نام سردار حسین تھا۔ سردار مجھے پسند نہیں تھا اور میں اسے بدلنا چاہتا تھا۔ مجھے اسکول کے دنوں ہی میں طلسم ہوش ربا پڑھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک جادوگرکا نام بہزاد تھا۔ یہ نام مجھے پسند آیا اور میں نے سردارکی جگہ بہزاد اپنا نام رکھ لیا۔ پھر یہی میرا تخلص ہوگیا۔ شاعری کا ذوق بھی مجھے طلسم ہوش ربا پڑھنے کے بعد محسوس ہوا۔ میں نے بارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور یہ اسی طلسم ہوش ربا کا فیضان تھا۔ اس داستان میں جو غزلیں تھیں وہ میں پڑھا کرتا تھا۔ ان غزلوں کو پڑھنے کے بعد ظاہر ہے معنی اور مطلب تو سمجھ میں نہیں آتے تھے لیکن ہجر اور وصل کے معنی سمجھنے لگا تھا یعنی یہ کہ ہجر میں رونا ہوتا ہے، آہ و زاری ہوتی ہے اور وصل میں ایک کیف ہوتا ہے، لذت ہوتی ہے۔ ہجر میں تارے گن گن کر سحر کرنا ضروری ہے ۔ چنانچہ میں شعر کہہ لیا کرتا تھا اور موزوں کہتا تھا۔‘‘
بہزاد لکھنوی کی عمرکوئی تیرہ چودہ سال ہو گی کہ ان کے محلے میں ایک مشاعرہ ہوا۔ یہ وہاں پہنچ گئے اور شاعروں کی صف میں جا کر بیٹھ گئے۔ جب شمع گردش کرتے کرتے ان کے سامنے پہنچی تو انھوں نے اپنی غزل سنائی شروع کر دی۔کہتے ہیں:
’’یقین مانیے میری آواز کانپ رہی تھی لیکن اتنا کامیاب ترنم تھا اور اشعار اتنے برجستہ تھے کہ شعرا نے اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا۔‘‘
اس دورکی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے بہزاد صاحب کہنے لگے کہ
لکھنو میں 80 فیصد شاعر تھے یعنی یہ کہ نام آپ کو کم معلوم تخلص آپ کو زیادہ معلوم ہوتا۔ اس لیے حضرات تخلص ہی کے نام سے پکارے جاتے تھے اور ایک شغل تھا کہ ہر ہفتے کی رات کو وہ اپنا وقت مشاعرے میں کاٹا کرتے تھے ۔ اساتذہ جو تھے وہ اپنا حلقہ وسیع رکھتے۔ عام طور پر جو محفلیں تھیں ان میں بھی شاعری کا چرچا رہتا کہ فلاں شاعر نے فلاں مصرعہ خوب کہا، فلاں لفظ یوں رکھا۔ یہ ایک عام موضوع تھا جس پر لوگ گفتگوکیا کرتے تھے۔ چنانچہ اس دور میں شاعر نہ ہونا تعجب تھا۔ مشاعروں کا یہ عالم تھا کہ انتہائی تکریم ہوتی تھی۔ جو انجمن کے مشاعرے ہوتے، ان میں ظاہر ہے ہر شاعر بلا لیا جاتا اور وہ پڑھتا تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : عزم بہزاد کا یوم وفات
——
داد میں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی طنزیہ پہلو نہ ہونے پائے۔ آپ داد دینے پر بھی مجبور تھے، چاہے شعر اچھا ہو یا برا ورنہ کہا جاتا تھا کہ جناب آپ بخل سے کام لے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ شاعر کو لوگ داد دیتے تھے اور دل کھول کر دیتے تھے خواہ دشمن ہو، خواہ دوست۔ یہ ایسی چیز تھی کہ شاعر مشاعرے میں جاتا تھا ہی داد کے لالچ میں اور جب وہ اس کو سیر ہوکر مل جاتی تو بڑا مسرور واپس آتا۔
شمیم رحمانی نے جناب بہزاد لکھنوی سے پوچھا:
’’آپ ریڈیو سے کیسے وابستہ ہوئے؟‘‘
بہزاد صاحب نے جواب دیا:
اللہ جناب ذوالفقار علی بخاری کو جزا دے۔ وہ عجیب انسان تھے۔ میں ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوں۔ انھوں نے دلی میں آل انڈیا ریڈیو میں شرفا کو بھر لیا۔ کسی شریف کو یہ پریشان نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انھوں نے تعلیم کا بھی خیال نہیں کیا۔ جس کو چاہا بھرا اور اس دور تک ان کے لائے ہوئے آدمی مشاہیر میں ہیں۔ چنانچہ ان کی نظر مجھ پر پڑی اور انھوں نے مجھ کو بلایا اور کہا کہ بہزاد صاحب آپ ریڈیو میں ملازمت کر لیجیے۔ غالباً ایک سو بیس روپیہ ماہوار پر انھوں نے مجھے سروس دی اور انھوں نے ہی مجھے ٹرینڈ کیا۔ اس لیے کہ میں یہ ڈرامے، فیچر لکھنا نہیں جانتا تھا۔ ان کی ٹریننگ تھی کہ میں نے ترقی کی اور میری شہرت بڑھنا شروع ہوئی۔ ہر جگہ سے میرے نام کی آواز آتی تھی۔ خصوصیت کے ساتھ یہ نعت جو میں پڑھتا تھا ہر جمعہ کو اس کا بڑا اثر ہوتا تھا۔ مسلمانوں کا عالم یہ تھا کہ وہ دیوانے ہو جاتے تھے۔ جمعہ کے دن کوئی گھر ایسا نہ تھا جہاں ریڈیو ٹیون نہ کیا جاتا ہو۔ میرے یہاں پاکستان آنے کے بعد بخاری صاحب نے پھر کرم فرمایا۔ انھوں نے مجھ سے کہا:
’’ بہزاد صاحب آپ کہاں جائیں گے، آپ کے بچے وغیرہ یہیں ہیں۔ ‘‘
چنانچہ میں ریڈیو پاکستان میں ملازم ہوگیا۔ یہاں آکے میں نعتیں پڑھنے لگا، ہفتہ میں پانچ نعتیں پڑھتا تھا۔ اس وقت میری کیفیت بدلی۔ کچھ اللہ کا کرم تھا کہ مجھے لگن مدینہ طیبہ کی پیدا ہوئی اور میں نے نعت کہنا شروع کی۔ نعت گوئی میں جانے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ غزل کہنے سے نعت کہنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ نعت گوئی میں تو معاملہ یہ ہے کہ بڑا مودب ہوکر کہنا پڑتا ہے۔ نعت گوئی کا میدان بہت بڑا ہے حالانکہ مضامین وہی ہیں لیکن یہ بڑا وسیع میدان ہے۔ اس میں جذبہ بھی ہے کیفیت بھی ہے، نسبت بھی ہے۔ بڑا رنگ ہے۔ نعت میں ایک چیز تو یہ ہے کہ سرکار کا نام نامی لے کر ان کی ثنا۔ یہ جذبے کی کیفیت ہے۔ ایک دوسرا گوشہ ہے کنایہ کا کہ جس کی تعریف کی جائے اس کا نام نامی نہ آئے بلکہ وہ تعریف اتنی منطبق ہو کہ معلوم ہو فلاں کی تعریف ہے۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : منور لکھنوی کا یوم وفات
——
ڈاکٹر سید رفیع الدین اشفاق ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ
بہزاد لکھنوی کے کلام میں صرف جذبات کی ترجمانی ہی نہیں پائی جاتی بلکہ ان کی والہانہ عقیدت مندی جہاں انھیں کیفیات کے اظہارکے لیے ابھارتی ہے وہاں حقیقت کا سررشتہ بھی ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا۔ عقیدت اور حقیقت دونوں کی آمیزش نے حضورکے حقیقی اوصاف کو ہمیشہ مضامین کی زینت بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ بے اعتدالیاں نظر نہیں آتیں جنھیں عشق اور محبت کے مذہب میں نعت گو شعرا نے روا اور جائز قرار دیا ہے۔
——
وجد آتا ہے مجھے بہزاد جب پڑھتا ہوں نعت
خود بہ خود وہ لب پہ آتا ہے جو میرے دل میں ہے
——
ڈاکٹر رفیع الدین لکھتے ہیں:
’’غرض یہ کہ بااعتبار مضامین اور بااعتبار زبان حضرت بہزاد لکھنوی کا نعتیہ کلام محاسن سے خالی نہیں ہے۔ زبان نہایت صاف و شستہ اور بحریں اکثر چھوٹی اور مترنم ہوتی ہیں۔ الفاظ کا حسن انتخاب موسیقیت پیدا کرتا ہے بیان سادہ، رواں دواں اور مضامین عام فہم ہوتے ہیں۔ نہ تو ان میں عالمانہ دقت پسندی اور لفظی صناعی سے کام لیا گیا ہے اور نہ عقیدت مندانہ بے احتیاطی کو دخل ہے۔ حضور انور کے کمال عبدیت کو دکھانے میں شاعر نے سارا زور صرف کر دیا ہے۔ وہ اکثر نعت گو شعرا کی طرح آپ کو عبدیت سے فارغ کرکے معبود کے رنگ میں جلوہ گر کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔ اس لیے غلوکی وہ صورتیں مفقود ہیں جن سے حضور کے حقیقی اوصاف پر حرف آتا ہے۔ ان خصوصیات کی بنا پر حضرت بہزاد کا مقام جدید دور کے نعتیہ غزل گو شعرا میں ممتاز ہے۔‘‘
——
ہم اس کی تمنا میں جائیں توکہاں جائیں
جو آنکھ میں رہتا ہے اور قلب میں بستا ہے
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم
جو بھی یہاں پہ ہے تیرا بندہ ہے اے کریم
تیرے ہی لطف سے ہے یہ راحت بھی عیش بھی
دُنیا ترے کرم ہی سے دُنیا ہے اے کریم
یہ مرگ، یہ حیات، یہ غم، یہ خوشی، یہ کیف
ادنیٰ سا سب یہ تیرا کرشمہ ہے اے کریم
عزّت بھی تیرے ہاتھ ہے، ذلّت بھی تیرے ہاتھ
جو چاہتا ہے جس کو تو دیتا ہے اے کریم
بہزاد پہ بھی اک نگہء مہر ہو ذرا
بہزاد بھی تو اک ترا بندہ ہے اے کریم
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
مقدّر بنائیں یہ جی چاہتا ہے
مدینے کے آقا دو عالم کے مولا
ترے پاس آئیں یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنّا
وہاں سر جھکائیں یہ جی چاہتا ہے
محمد کی باتیں محمد کی سیرت
سُنیں اور سُنائیں یہ جی چاہتا ہے
درِ پاک کے سامنے دل کو تھامے
کریں ہم دعائیں یہ جی چاہتا ہے
دلوں سے جو نکلیں دیارِ نبی میں
سُنیں وہ صدائیں یہ جی چاہتا ہے
پہنچ جائیں بہزادؔ جب ہم مدینے
تو خود کو نہ پائیں یہ جی چاہتا ہے
——
میں تو تباہ ہو چکا تو مری زندگی نہ دیکھ
اپنے کرم پہ غور کر اور مری بے بسی نہ دیکھ
——
دل میں لگی ہے آگ ، جگر میں لگی ہے آگ
بہزادؔ اشکِ غم نہ بہاؤں تو کیا کروں
——
اُن کی جبینِ ناز جھکی ہے مری طرف
بہزاد اُن کا کعبۂ ایماں ہوں آج کل
——
یہ اور بات ہے کہ زباں سے نہ کہہ سکا
بہزادؔ مبتلائے محبت ضرور تھا
——
ان کا کرم تو دیکھو ان کی عطا تو دیکھو
مجھ میں سما گئے ہیں آ کر مری نظر میں
——
ان کا ہر ایک عذرِ ستم مان لیجیے
بہزادؔ اپنی بات کو بالا نہ کیجیے
——
وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں
——
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
——
عشق کا اعجاز سجدوں میں نہاں رکھتا ہوں میں
نقش پا ہوتی ہے پیشانی جہاں رکھتا ہوں میں
——
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے
اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے
اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں
اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے
اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے
میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے
کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے
——
اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا
خود دل کو بیقرار کیا ہائے کیا کیا
معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے
اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا
وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار
نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا
خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقی
دامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا
آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میں
نالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا
مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی
کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا
ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیا
غم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا
صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکے
عذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا
قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے
قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا
رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکا
ہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا
دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاں
پھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا
ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہ
کیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا
کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکر
ایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا
کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکی
توبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا
شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیا
تاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا
بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکی
تم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات