کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام
کب تک رہے ضعف جاں گزائے اِسلام پھر از سرِ نو اِس کو توانا کر دے اے حامیِ اسلام خدائے اسلام
معلیٰ
کب تک رہے ضعف جاں گزائے اِسلام پھر از سرِ نو اِس کو توانا کر دے اے حامیِ اسلام خدائے اسلام
دریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیں اللہ ری حیاء حشر میں اللہ کے آگے ہم سب کے گناہوں پہ وہ شرمائے ہوئے ہیں میں نے چمن خلد کے پھولوں کو بھی دیکھا سب آگے ترے چہرے کے مرجھائے ہوئے ہیں بھاتا نہیں کوئی ، نظر آتا نہیں کوئی دل میں وہی آنکھوں میں […]
ہر گوشہ مرے دل کا مہکتا دکھائی دے یادِ نبی کی چاندنی میں ہر طرف مجھے ذرّہ نظر جو آئے، نگینہ دکھائی دے صلِ علیٰ نبیِّنا وردِ زُباں رہے آنکھو! تمہیں جو گنبدِ خضرا دکھائی دے جب یاد آئیں شہرِ مدینہ کے روز وشب جاں مضطرب ہو، قلب تڑپتا دکھائی دے شہرِ نبی کو جاؤں […]
مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پذیرائی ملی ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ ذکر کرنے کو […]
خدا کے نُور سے ماحول، تاباں و فروزاں ہے مُنور نُور سے اُس کے مکان و لامکاں ہے جو اُس کی حمد سے غافل ہے، راہ گم کردہ انساں ہے
ٹلی ہر ایک مصیبت درود پڑھتے ہوئے بھٹک رہا تھا کہیں دشت نامرادی میں ملی خیال کو رفعت درود پڑھتے ہوئے ہنر سے ، قوت بازو سے مل نہیں سکتی ملے گی دولت شہرت درود پڑھتے ہوئے خموش تھا تو کوئی پوچھتا نہیں تھا مجھے بڑھا ہے دست رفاقت درود پڑھتے ہوئے ابھی طوالت دشت […]
خوشی مقصود ہے رب العلیٰ کی کرو خالق کی بھی جی بھر عبادت کرو خدمت بھی مخلوقِ خدا کی
سروں کو خم ہیں کیے تاجدار ان کے لیے سجی ہے ان کے لیے محفل نجوم و قمر ہے آسمان کو حاصل قرار ان کے لیے درود پڑھتی ہیں سر سبز وادیاں ان پر رواں دواں ہیں سبھی آبشار ان کے لیے اثاثہ نکہت طیبہ کا بھر کے دامن میں ہوئیں ہوائیں غریب الدیار ان […]
آپ کی رحمت اماں گاہِ زمانہ ہے حضور بے عمل ہے گو مسلماں، جانتا ہے یہ ضرور تیرگی ہو گی فقط اخلاقِ سرور ہی سے دور پھر بھی یہ ایام کی نیرنگیوں میں مست ہے دین کی دولت کو کھو کر آج خالی دست ہے عہدِ اصحابِ کرامؓ اس کو ابھی تک یاد ہے آپ […]
عِطر اَفشاں فضائیں طیبہ کی کھینچ لیتی ہیں اپنی ہی جانب مرحبا! سب ادائیں طیبہ کی چھائی ہیں ہر طرف کرم بن کر آسماں پر گھٹائیں طیبہ کی خود کو پائیں نہ ہم ہمیں ساقی! مَے کچھ ایسی پلائیں طیبہ کی اب تو آقا جی پوری ہو جائیں اِلتجائیں، دُعائیں طیبہ کی کاش! طیبہ میں […]