توحید تری شان ہے اے صاحبِ لولاک

بیشک یہی عرفان ہے اے صاحبِ لولاک تو عشق کا عنوان ہے اے صاحبِ لولاک کیا نور کا سامان ہے اے صاحبِ لولاک دیکھوں تجھے اور تیرے سوا کچھ بھی نہ دیکھوں ہر دم یہی ارمان ہے اے صاحبِ لولاک کیونکر نہ وہ سمجھے تجھے یکتائے دو عالم جو دل سے مسلمان ہے اے صاحبِ […]

شوق کا پیغام لکھا ہے سرِ لوحِ سخن

میم سے اک نام لکھا ہے سرِ لوحِ سخن رحمتِ باری تعالٰی اس لیے ہے سر بہ سر اسمِ حسنِ تام لکھا ہے سرِ لوحِ سخن حسنِ عالم سرنگوں کیوں کر نہ ہو اس ہاتھ سے نامِ خوش آرام لکھا ہے سرِ لوحِ سخن من گداے چار یارم تابعِ آلِ نبی یہ بصد اکرام لکھا […]

مری بھی بگڑی بنانے حضور آئیں کبھی

مِرا نصیب جگانے حضور آئیں کبھی خوشی کا مژدہ سنانے حضور آئیں کبھی مجھے بھی جلوہ دکھانے حضور آئیں کبھی چمن میں پھول کھلانے حضور آئیں کبھی کہ اجڑے دل کو بسانے حضور آئیں کبھی حسن حسين جو پیارے ہیں آپ کو آقا انہیں کا صدقہ لٹانے حضور آئیں کبھی خمار جس کا رہے عمر […]

مدحِ سرکارِ زمن جس کے خیالوں میں رہے

اُس کو حق ہے کہ وہ انسان اُجالوں میں رہے اس لیے کرتے ہیں سرکار عطا ، قبلِ سوال تاکہ سائل کہیں اُلجھا نہ سوالوں میں رہے التجاء آپ سے اِتنی ہے مِرے قاسمِ رزق آپ کے ہاتھ کی تاثیر نَوالوں میں رہے نعت گوئی میں ہے وہ عارفِ آدابِ ثناء جو سدا نعت کے […]

تُو عبدِ معظم ہے تری ذات ہے مَحمُود ، اے احمدِ معبودﷻ

تُو عبدِ معظم ہے تری ذات ہے مَحمُود ، اے احمدِ معبود ﷻ تُو مُظہَرِ توحید ہے تُو مَظہَرِ معبود ، اے احمدِ معبود ﷻ تیرا یہ تَشاہُد ، ترے مَشہُود کا ہے صاد ، اے سیدِ اَشہاد تو صادقِ اَصدَق ہے تُوہی شَاہدِ مَشہُود ، اے احمد ِ معبود ﷻ توحیدِ مُجَرَّد سے مُزَیَّن […]

جل گیا ایک عقیدت کا دیا نعت ہوئی

ہو گئی مجھ پہ جو آقا کی عطا نعت ہوئی لفظ و معنیٰ میں الجھنے سے ہمیں کیا مطلب جس گھڑی نام شہِ دیں کا لیا نعت ہوئی انبیاء کرتے ہیں اقرار تِرا مِیرِ اُمم میں نے جب معنئ "میثاق” پڑھا، نعت ہوئی حشر میں پاس مرے غم نہ کوئی آئے گا لب سے میرےجو […]

میں جاہ طلب ہوں نہ کوئی جاہ حشم ہے

اک بندہ ناچیز طلبگارِ کرم ہے تو احمدِ مختار نویدِ بن مریم ہاں تو ہی دعائے دمِ تعمیر حرم ہے موسیٰ کے لئے برق تھی ،میرے لئے قندیل اب وہ ہی تجلّی سرِ دیوار حرم ہے ہے قرّۃ العینین مدینے کا نظارہ فردوس یہی ہے یہی گلزارِ اِرم ہے تسبیح زباں پر ہے کبھی نام […]

زمین اپنی مہ و خورشید اپنا آسماں اپنا

اگر سالار اپنا ہو تو یہ سب کارواں اپنا ترے قدموں تلے پایا ہے ایسا نور مٹّی نے کہ ذرّے بن گئے جس سے مہ و انجم کے آئینے جلو میں ایسے جلوے لے کے محبوبِ خدا ٓیا کہیں حدِ عدم سے بھی پرے تھا کفر کا سایا کبھی جب آب و گل سے بن […]

نویدِ طیبہ رسی جب کبھی نہیں آئی

گلِ مراد پہ بھی تازگی نہیں آئی جو بخشے خوابوں کو انوارِ سیدالکونین ہنوز آنکھوں میں وہ نیند ہی نہیں آئی بشر تو اب بھی بھٹکتا ہے ظلمتوں میں یونہی نبی کے دیں کی جہاں روشنی نہیں آئی قریبِ منبرو محراب دل پکار اٹھا ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘٭ حصولِ معرفتِ سیدالبشر […]

محمد باعثِ تخلیقِ عالم

بشر پیکر مگر نورِ مجسم وہ نقشِ اولینِ کلکِ قدرت نبوت اور رسالت کے وہ خاتم وہ جن کے دم سے قائم بزمِ ہستی وہ جن کے نور سے روشن دو عالم سنواری جس نے زلفِ آدمیت نکھارا جس نے روئے ابنِ آدم بدلتی رُت، بدلتے موسموں میں بہارِ جاوداں قانونِ محکم عطا ہو قومِ […]