کوئی خواہش ، کبھی احقر سے جو پوچھا جائے
بس غلاموں میں ترے نام پکارا جائے بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرا ہوں آقا! اب تو عاصی کو بھی ساحل پہ اتارا جائے حسنِ فردا ہے یقینی بہ طفیلِ شافع پھر بھی لازم ہے کہ امروز سنوارا جائے ان کی الفت ہے جو ایمان کی بنیاد تو پھر عشقِ احمد سے ہی ایماں کو […]