دامنِ طلب لے کر آقا ہم کدھر جائیں
اک نظر کرم کی ہو تا کہ ہم سنور جائیں آرزو، دیا بن کر دل میں ایک روشن ہے ہم درود کا تحفہ لے کر ان کے در جائیں آپ کا تصور یوں آیا ہے میرے دل میں جیسے نور کی کرنیں چار سو بکھر جائیں ہم سے تیرہ بختوں کا ایک ہی ٹھکانہ ہے […]