روشن یہ کائنات ہے، سرکار آپ سے

ہر تیرگی کو مات ہے سرکار آپ سے پھیلا ہوا ہے نور دو عالم میں آپ کا تزئینِ شش جہات ہے، سرکار آپ سے یہ جن و انس شمس و قمر بحر و بر گھٹا ہر ایک کو ثبات ہے، سرکار آپ سے ہے آپ ہی کے ذکر سے ہر دن مرا حسیں پُر کیف […]

کرو نہ واعظو! ، حور و قصور کی باتیں

سناؤ مجھ کو فقط تم حضور کی باتیں کبھی ہو ذکرِ مدینہ کبھی ہو ذکرِ رسول تمام عمر ہوں ایسی سرور کی باتیں زبور ہو کہ ہو توریت یا کہ ہو انجیل ہوئی ہیں سب میں نبی کے ظہور کی باتیں خدا کا شکر کہ ایمان بالیقیں ہے مِرا حضور سنتے ہیں نزدیک و دور […]

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

یکسر مری حیات کا نقشہ بدل گیا چشمِ کرم حضور کی جس پر بھی ہو گئی دونوں جہاں کی آفتوں سے وہ نکل گیا شہرِ نبی کی برکتیں دیکھو ہیں کس قدر جو بھی گیا ہے اس کا مقدر بدل گیا شاہوں سے بڑھ کے مرتبہ ایسے گدا کا ہے سلطانِ دو جہاں کے جو […]

رکھتا ہوں دل میں کتنے ہی ارمان آپ کے

قدموں میں پیش کر دوں دل و جان آپ کے کر لیں ہمیں قبول بس اپنی جناب میں سرکار بن کے آئے ہیں مہمان آپ کے دشمن کے جَور و ظلم کو کرتے رہے معاف کس کس پہ اے کریم ہیں احسان آپ کے حسرت ہے آؤں آپ کے دربار پر میں ، پھر ہو […]

زمین آپ کی ہے اور آسمان آپ کا

ہیں جانِ کائنات آپ، ہر جہان آپ کا صبا بھی آپ کی ہے اور یہ گھٹا بھی آپ کی یہ شاخ و گل ہیں آپ کے، یہ گُل ستان آپ کا ہر ایک نام سے عظیم تر ہے نامِ مصطفی ہراک مکان سے بلند تر مکان آپ کا بھنور میں ڈوبنے کا خوف میں کروں […]

مرے آقا! یہ مجھ پہ آپ کا احسان ہو جائے

یہ عاصی آپ کے دربار کا مہمان ہو جائے مری پوری ہر اک حسرت ہر اک اَرمان ہو جائے جو میری جان اُن کی آن پر قربان ہو جائے رہے ذکرِ مبارک آپ کا وردِ زباں ہر دم بروزِ حشر بخشش کا یہی سامان ہو جائے نہیں خالی کوئی جاتا مرے سرکار کے در سے […]

آؤ مہرِ حرا کی بات کریں

روشنی پر مذاکرات کریں بھیج کر ذاتِ مصطفی پہ درود ساری آسان مشکلات کریں ان پہ قربان جان سے ہو کر جاوداں کیوں نہ ہم حیات کریں ہو گی آمد حضور کی  آؤ! منعقد ایک بزمِ نعت کریں ان سے منسوب ہو کے اے آصف معتبر کیوں نہ اپنی ذات کریں

تمہاری یاد جو دل کا قرار ہو جائے

تو میرے دل کی فضا پُر بہار ہو جائے تمہارے اُسوئہ کامل میں ہے نجا ت اپنی خدا کرے کہ یہ اپنا شعار ہو جائے تمہیں خدا نے بنایا ہے حسن کا پیکر جھلک جو دیکھے تمہاری نثار ہو جائے ہے ڈوبنے ہی کو کشتی مِری تَلاطُم میں نظر تمہاری جو اُٹّھے تو پار ہو […]

صد شکر کہ سرکار کا میں مدح سرا ہوں

ہے اُن کا کرم مجھ پہ کہ میں وقفِ ثنا ہوں کیوں کھاؤں بھلا ٹھوکریں در در کی جہاں میں جب قاسمِ نعمت کا ازل سے میں گدا ہوں بخشی ہے مجھے مدح سرائی کی سعادت آقا! میں دل و جان سے ممنونِ عطا ہوں عشق ان کا ہو ہر سینۂ بے نور میں روشن […]

رونقِ دو جہاں آپ ہیں

حسنِ کون و مکاں آپ ہیں کہہ رہا ہے کلامِ خدا باعثِ کن فکاں آپ ہیں آپ آئے تو کلفت مِٹی راحتِ عاشقاں آپ ہیں سب رسولوں نے تعلیم دی مرسلِ مرسلاں آپ ہیں ذاتِ حق بے نشاں ہے مگر ذاتِ حق کے نشاں آپ ہیں اس پہ آصف کا ایمان ہے ہادیٔ انس و […]