کرتا ہے گلِ خلد کی شبنم سے لب کو تر

جب چومتا ہے پیارِ سے کوئی نبی کا در عزت حروف نسبتِ احمد سے پا گئے شامل ہوئے جو نعت میں وہ ہوگئے امر ہیں جاں نثار یار سبھی آپ کے حضور عثمان ہوں علی ہوں یا صدیق اور عمر کب پا رہا ہے نعت نبی کا نمو خیال ہر لحمہ ذوق و شوق سے […]

لحن سے نعت میں کچھ ایسا اثر آتا ہے

چاند جیسے کوئی آنگن میں اتر آتا ہے سر جھکائے ہوئے جب کرتا ہوں میں ورد ِ درود دلِ بے تاب مجھے طیبہ نظر آتا ہے عشق میں ایڑیاں دل میرا اٹھاتا ہے ذرا گنبدِ سبز کا دیدار یوں کر آتا ہے کون کر سکتا ہے یوں عشقِ نبی کا اظہار چشمِ تر تجھ کو […]

گلاب لفظ ہیں درکار اب قلم کے لیے

سجاؤں نعت کی مالا شہِ امم کے لیے درود ، نعت نبی اور چشمَ نم دیدہ غلام کا ہے یہ رختِ سفر عدم کے لیے اے کاش خاکِ مدینہ کہیں سے مل جائے یہی ہے سرمہ ءِ اکسیر چشمِ نم کے لیے ملی جو مُہرِ غلامی مجھے محمد کی بروزِ حشر بہت ہے مجھے کرم […]

جب مرے آقا نے سیدھا راستہ بتلا دیا

کاروانِ زیست پھر کیوں پیچ و خم کی نذر ہے؟ اُمتِ مسلم کی ساری اُلجھنیں کیوں ختم ہوں؟ عزم کا سیماب ہی جب زیر و بم کی نذر ہے پارسائی کی سند جن جن کو یاں درکار تھی برملا کہتے تھے جاں اہلِ حَکَم کی نذر ہے سخت مشکل ہے کہ رشتہ دین سے قائم […]

کاش میں بھی زندگی میں صبحِ بہجت دیکھ لوں!

قریۂ ہستی میں آقا کی حکومت دیکھ لوں خاکِ نقشِ پائے سرور ہو اگرمجھ کو نصیب! میں اسے سرمہ بناؤں اور جنت دیکھ لوں نورِ نقشِ پائے آقا ہی نگاہوں میں رہے محفلوں میں رہ کے بھی میں رنگِ خلوت دیکھ لوں میرا خامہ سرورِ کونین کی نعتیں لکھے زیست کے لمحات میں تاثیرِ مدحت […]

میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا

اور مدحت کا لہجہ مجھے مل گیا میرا خامہ محبت سے چلنے لگا شہرِ مدحت میں ہر سو اجالا ہوا نعت ہوتی گئی، دل بہلتا گیا دل میں اک نغمۂ سرمدی گونج اُٹھا کہتی آئی یہ سرگوشیوں میں صبا مرحبا، مرحبا، مرحبا، مرحبا مدحِ سرکارِ عالی میں ہے زندگی شاعری ہے تو فی الاصل یہ […]

ہے جو روشنی کی تلاش تجھ کو دیارِ شاہِ زمن میں آ

کہ عزیزؔ شہرِ مُراد کا فقط اک یہی تو ہے راستہ بشری حیات کے واسطے وہی لفظ شمعِ ھدیٰ بنا جو رسولِ حق کی زبان سے سرِ بزم و رزم، ادا ہوا یہی ایک در ہے کہ سنگ و خشت نے جس سے پائی حیاتِ نو وہی ذرَّہ مہر بنا جو سنگِ درِ رسول سے […]

ہم جو غزل کے شہر سے نعت کی راہ آ گئے

مدح نبی کی شکل میں راہ نئی دکھا گئے صرف خیال سے گریز، سچ کی طرف سفر بنا ظلمتِ شب میں مہر ساں، روشنیاں لٹا گئے شہرِ غزل میں حرف تھے صرف خذف خذف مگر مدح میں وہ گہر بنے، آب کچھ ایسی پا گئے اہلِ سخن جو وادیٔ کذب سے بچ سکے کبھی دائمی […]

چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

شعر پھر نعت کے مضمون سے روشن ہو گا آج دیں پر جو فدا ہونے کا احساس رہا ہر عمل مشعلِ مامون سے روشن ہو گا قریۂ دیں جو خرد مندوں نے تاریک کیا لازماً اب کسی مجنون سے روشن ہو گا اتباعِ نبوی شرط ہے لیکن ہے گماں شہرِ دل کاوشِ ملعون سے روشن […]

مسلماں اپنے آقا کی اگر سیرت کو اپنا لے

اور اس دنیا پہ ہو جائے جمالِ پیروی ظاہر سلوک اخلاص پر مبنی ہو جب ہر اک مسلماں کا تو ایماں کی طرف دوڑے زمانے بھر کا ہر کافر عمل کا بیج بویا جائے جب کشتِ عقیدت میں تو کیسے رہ سکے کوئی زمینِ شور بھی عاقر مرے آقا کی سیرت ہی دلوں پرحکمراں ٹھہرے […]