درود روح میں گونجے عمل میں نور آئے

کبھی تو میں بھی کہوں خواب میں حضور آئے محبتِ شہِ والا کی جب بھی بات کروں اویسیت کا مزہ روح کو ضرور آئے وہ بات لکھ ہی نہ پاؤں کہ جو عمل میں نہ ہو مجھے بھی نعت نگاری کا وہ شعور آئے سخن سخن مرے سرکار کا ہو ذکرِ جمیل زبان و دل […]

طلوعِ سحر

شعور کی روشنی اُسی سے حیات کی آگہی اُسی سے حیاتِ بعد الممات کا درک بھی اُسی سے کہ جو صفا پر طلوع ہو کر پیامِ توحید لے کے آیا وہ جس کا سایہ کبھی نہ دیکھا گیا جہاں میں مگر دو عالم کے واسطے اُس کی ذاتِ اقدس ہے رحمتوں کا وسیع سایہاُسی کے […]

انتساب

اُس سے منسوب کروں اُس کی ہی نذر میں سب گزرانوں یہ عقیدت کے گلاب اور سمن جو ہے محبوبِ زمن جو ہے مطلوبِ چمن جو نبوت کا اَمیں ٹھہرا تھا اس گھڑی! جب کہ ابھی آدمؑ بھی آب اور گِل سے نہیں گزرا تھا کل بھی تھیں اس کی طرف… عشق کی نہری جاری […]

چمک جب تک رہی اعمال میں اُس پاک سیرت کی

یہ اُمَّت مستحق بھی تھی زمانے بھر میں عزت کی! نگاہِ لطف کے قابل تھی خالق کی نظر میں بھی کہ جب تک اپنے منصب کی اِس اُمت نے حفاظت کی! یہ دین اللہ کی وارث رہی جب تک زمانے میں اُسی دم تک رہی یہ قوم حامل، شان و شوکت کی کلیمی صرف ایسے […]

اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے

میں روؤں حضور! آپ کے قدموں سے لپٹ کے اِس عہد نے جو زخم دیئے ہیں مجھے آقا! میں عرض کروں، تو مرا دل لخت ہو پھٹ کے صحرائے جنوں میں، میں اکیلا ہی کھڑا ہوں آتی نہیں خود اپنی بھی آواز پلٹ کے دیں، سادہ تو دنیا کا ہر انداز ہے رنگیں اس طرح […]

بلندی پر وہی فائز ہے جس کا بول ہے بالا

وہ جس نے آدمی کی عقل کو اِک آئنہ بخشا وہ جس نے خیر کے اشجار دنیا میں لگائے ہیں وہ جس نے نیکیوں کی کھیتیوں کو خون سے سینچا وہ جس رہرو کے چلنے سے صراطِ دیں چمک اُٹھی وہ جس نے دھوپ میں انسان کے سر پر کیا سایہ دبستاں علم و حکمت […]

سلسبیلِ نور

فلک سے تا فرشِ خاک اِک سلسبیلِ نورِ ازل ہے جاری مسرتوں کے چمن کھلے ہیں کرم پہ مائل ہے ذاتِ باری ہے غرب تا شرق شورِ صلِّ علیٰ‘ کہ رحمت برس رہی ہے عروسِ نو کی مثال گیتی تمام خوشبو میں بس رہی ہے بساطِ عالم کا چپہ چپہ زُجاجِ انوار ہو رہا ہے! […]

تہنیت بر زیارتِ حرمین

قسمت بلندیوں پہ ہے کس درجہ آپ کی! دی آپ نے بھی روضۂ اطہر پہ حاضری گونجی ہیں جس فضا میں صدائیں رسول کی قسمت کا اَوج ہے وہ فضا آپ کو ملی کس درجہ تھی سعید وہ ساعت کہ آپ جب تھے پیشِ رَبّ تو، دیکھ رہے تھے شہِ عرب پوری ہوئی طوافِ حرم […]

دشت ہے کل جہاں سائباں آپ ہیں

یا نبی رحمتِ بیکراں آپ ہیں قریۂ جاں منور ہوا آپ سے تیرگی میں مرے پاسباں آپ ہیں بے صدا عرصۂ آگہی کے لیے حق و صدق وفا کی اَذاں آپ ہیں آپ ہیں واقفِ سرِّ توحید بھی شاہدِ لمحۂ کن فکاں آپ ہیں آپ ہیں طورِ عرفانِ انسانیت منبعِ علم بھی بے گماں آپ […]

اِتِّبَاعِ سرورِ عالم سے روشن ہو عمل!

یوں رقم ہو نعت کے اُسلوب میں تازہ غزل ہے تسلط غیر کا قلب و دماغ و روح پر! لکھ دیا ہے وقت نے ماتھے پہ ’’ذلت ہے اَٹل‘‘ چھوڑ کر اِک جادۂ روشن کو امت آپ کی چاہتی ہے ساتھ ہی پاتی رہے نسبت کا پھل! کان میں مسلم کے پھونکا ہے یہی شیطان […]