جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

پھیلی ہے قلب و روح میں مدحت کی روشنی اللہ نے تو خود ہی کیا ہے یہ اہتمام بخشی ہے اُن کے ذکر کو رفعت کی روشنی ذکرِ رسولِ پاک سے پہنچی ہے قلب تک وہ سلسبیلِ نور وہ جنت کی روشنی معیارِ حسنِ خُلق وہی شخص بن گیا جس کو ملی ہے اُن کی […]

ہم کو دامن اُن کو گنجِ شائگاں بخشا گیا

یوں فقیروں کو وہ دستِ مہرباں بخشا گیا آدمی کو اُن کے صدقے نعمتِ عظمیٰ ملی دینِ برحق کا شعورِ جاوداں بخشا گیا جس نے اُن کی پیروی کا ہر قدم رکھا خیال وہ تو محشر میں بِلا ریب و گماں بخشا گیا چلچلاتی دھوپ، دشتِ بے کراں، انساں فگار ایسے لمحے رحمتوں کا سائباں […]

مدح کب تک شہِ کونین ! شنیدہ لکھوں

کاش وہ وقت بھی آئے کہ میں دیدہ لکھوں دولتِ درد عطا ہو مرے آقا ! مجھ کو آپ () کی نعت میں با قلبِ تپیدہ لکھوں کاش وہ چشمِ کرم میری طرف بھی ہو جائے! میں بھی حسَّانؓ کے لہجے میں قصیدہ لکھوں چادرِ زیست پہ عصیاں کے اگر داغ نہ ہوں یا نبی […]

نعت کہنے کا سلیقہ میں کہاں سے لاؤں

حرف و الفاظِ جمیلہ میں کہاں سے لاؤں آنکھ اٹھتی ہی نہیں گنبدِ خضری کی طرف شان میں اسکی قصیدہ میں کہاں سے لاؤں لمس سرکار کی زلفوں کا ہواؤں کو ملا ایسا پاکیزہ نصیبہ کہاں سے لاؤں جب کہ سایہ بھی نہیں آپ کا موجود آقا مثلِ اوصافِ حمیدہ میں کہاں سے لاؤں دم […]

فروزاں فروزاں ضیائے مدینہ، ہے سب حسنِ عالم فدائے مدینہ

اس آفت زدہ شہرِ یثرب میں آقا، تمہی بن کے رحمت ہو آئے مدینہ ترا شہرِ خوباں دعاؤں کا محور، دل و جاں ہوئے ہیں معطر،منور لبوں پر سجی بس یہی التجا ہے ، رہے میرے دل میں ولائے مدینہ حسیں سبز گنبد پہ نظریں جمائے زباں پر سلاموں کے گجرے سجائے میں مسحور و […]

چل مدینہ کی جب بھی صدا دی گئی

یوں لگا جیسے بگڑی بنا دی گئی نقشِ پائے مبارک کا اعجاز ہے خاکِ طیبہ میں جو بھی شفا دی گئی میں مدینے گیا تھا بڑے شوق سے پر مرے شوق کو یہ سزا دی گئی شہرِ آقا میں رہنا تھا کچھ دن مجھے وائے قسمت کہ مدت گھٹا دی گئی سارے اعمال رد حشر […]

زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا

وہ عبدِ خاص و مکرم ہمیں یگانہ ملا زمانے بھر میں بہت سے حسین ہیں لیکن کوئی بھی ثانی ترا شاہِ دوسرا نہ ملا سخنوران جہاں سر پٹختے پھرتے ہیں برائے مدحتِ نعلین قافیہ نہ ملا رضا خدا کی ، انہی کی رضا سے ہے منسوب بغیر عشقِ محمد کبھی خدا نہ ملا تمھارے در […]

آپ کی رف رف سواری لاجواب

شان مولا نے نکھاری لاجواب تشنگی کے واسطے اصحاب کی انگلیوں سے چشمے جاری لاجواب ام معبد دیکھتی ہی رہ گئیں آپ کی صورت وہ پیاری لاجواب ایکم مثلی ترا اعلان ہے اور تری وہ روزہ داری لاجواب امن ہو یا جنگ ہیں تجھ پر فدا چار یاروں کی وہ یاری لاجواب مرتضی مشکل کشا […]

لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں

لیے رخ پہ نوری نقاب آ گئے ہیں جنابِ رسالت مآب آ گئے ہیں مقفّل ہوا جن پہ بابِ رسالت وہ آقائے عزت مآب آ گئے ہیں اشارہ ملا اس طرح حاضری کا کہ شہرِ مدینہ کے خواب آ گئے ہیں یہ ارض و سما جن کے صدقے بنے ہیں دو عالم کے وہ انتساب […]

کس قدر رتبہ ہے برتر والئی کونین کا

قبلۂ کونین ہے در والئی کونین کا سورہے ہیں بے خطر ہجرت کی شب مولا علی خوف کیا ہو جب ہے بستر والئی کونین کا امہاتِ کل علی خیر النسا، حسنینِ پاک ہے گھرانہ کتنا اطہر والئی کونین کا انکی نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا ہر نفس ہے یوں منور والئی کونین […]