بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ

رواں ہیں جانبِ یثرب سفینے یا رسول اللہ منّور ہو مقدر میرا بھی تیری شفاعت سے مجھے بھی تو سکھا دے وہ قرینے یا رسول اللہ میسر آ بھی جائے اب نظارا سبز گنبد کا کہ دوری اب نہیں دیتی ہے جینے یا رسول اللہ

جس شخص نے کی آپ سے وابستگی قبول

ہونے لگی پھر اُس کی ہر اِک ان کہی قبول ایسا سبب بنے کہ مدینے میں جا بسوں ہو جائے کاش میری تمنا دلی قبول شہکارِ لم یزل ترے اوصاف بے مثال سب انبیأ نے کی ہے تری برتری قبول حصّہ بنے ہیں ہم جو سجائی وسیمؔ نے آقا درود و نعت کی بارہ دری […]

دھوم ہر سمت جشنِ ولادت کی دھوم

آمدِ شمعِ فخرِ رسالت کی دھوم ہر طرف سلسلۂ درود و سلام ہر جگہ آپ کی شانِ رحمت کی دھوم اُن کے در سے ہوا رد نہ کوئی سوال اُن کے دم سے ہے جود و سخاوت کی دھوم قرن بھی جن کے تھے منتظر ، آگئے پھیلی ہے ہر طرف اُن کی بعثت کی […]

سفر ہے خواب کا اور باادب ہے

مقابل روضۂ شاہِ عرب ہے ادا ہوگا نہیں توصیف کا حق فقط کوشش ہے ، چاہت ہے ، طلب ہے مرے لفظوں سے پھوٹی روشنی اور یہ صفحوں پر اُجالا سا عجب ہے میں کہتا ہوں نبی کی نعت دل سے یہی دل کی طہارت کا سبب ہے قوی امکان ہے بخشش کا اشعرؔ درودِ […]

سُن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب

ہوگیا سب عطا اُس غنی کے سبب آرزو ہے کسے مال و زر کی یہاں؟ سب میسّر ہے عشقِ نبی کے سبب مل رہا ہے مجھے تو طلب سے سوا کچھ بھی حاجت نہیں ہے سخی کے سبب رحمتیں ہیں تری رحمتوں کے طفیل روشنی ہے تری روشنی کے سبب مجھ کو بھی اذن ہو […]

مجھے آپ سے جو محبت نہ ہوتی

زمانے میں یوں میری شہرت نہ ہوتی ثنا خوان ہوں آپ کا میرے آقا وگرنہ مری ایسے عزت نہ ہوتی ملا ہے یہ سب آپ کے واسطے سے نہ قرآن ہوتا ، تلاوت نہ ہوتی اگر آپ مبعوث ہوتے نہ ہم پر جہاں میں خدا کی عبادت نہ ہوتی پجاری تھی دنیا شجر ، پتھروں […]

مشکلوں میں پکارا کرم ہی کرم

ہوگیا مجھ پہ آقا کرم ہی کرم اُن کے دامانِ رحمت میں جو آگیا کون ہے بے سہارا؟ کرم ہی کرم اُس پہ رحمت رہے گی خدا کی سدا جس پہ ہو مصطفی کا کرم ہی کرم من کہ مدحت سرا ام سرِبزمِ نعت مجھ پہ بھی شاہِ والا کرم ہی کرم مرتضیٰؔ وہ سراپا […]

وفورِ عشق سے لبریز دل کا دردِ دوراں ہے

وہ والی ہے وہ آقا ہے وہ داتا ہے وہ سلطاں ہے اُنہی کا نام لیوا ہوں فقط اِس اِک حوالے سے قوی بخشش کا امکاں ہے ، مری بخشش کا امکاں ہے عطا ہو نعت کہنے کا سلیقہ مجھ کو بھی آقا مضامیں ہیں،تخیل ہے، تمنائی ہوں عنواں ہے منور آپ کے جلووں سے […]

کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

مطمئن ہو کے مقدر کی طرف دیکھتا ہوں جب بھی اطراف میں چھایا ہو مرے حبس کوئی چشمِ نم سے ترے پیکر کی طرف دیکھتا ہوں صحنِ مسجد میں کھڑا ہو کے عقیدت سے میں گنبدِ خضریٰ کے منظر کی طرف دیکھتا ہوں میں نے اُس ذات سے امیدِ کرم باندھی ہے اُس کی رحمت […]

کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

زندگی پر مری آپ کا ہے کرم وہ سراپا کرم ، وہ سراپا سخا ظلم سہہ کر بھی جس نے کیا ہے کرم یہ سرِ گنبدِ خضریٰ کیا ہے گھٹا ہر طرف بن کے بادل تنا ہے کرم مشکلوں میں ترا نام جب بھی لیا میری بگڑی بنی ، ہوگیا ہے کرم مرتضیٰؔ آپ کی […]