مدینے والے ہمارے دل ہیں ازل سے تشنہ ازل سے ترسے

ازل کی تشنہ زمینِ دل پر کرم کا ابرِ مطیر برسے لطیف جذبے عمیق جملے جمیل نعتیں جو لکھ رہا ہوں میں لے کے آیا ہوں ذوقِ مدحت نبیٔ اکرم کے سنگِ در سے دیارِ بطحا کا ذرہ ذرہ ہے ماہ و انجم سے بڑھ کے روشن سمجھ نہ آئے اگر یہ منطق مدینہ دیکھو […]

شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی

لفظ مسکرائیں گے اور نعت مہکے گی دیدِ شاہ کی خواہش بند آنکھ میں رکھ لوں آنکھ میں یہ کستوری ساری رات مہکے گی صرف تذکرہ کیجے والضحیٰ کے چہرے کا لٹ حسین زلفوں کی سات سات مہکے گی میری روح بطحا کے بوستان میں جا کر ڈال ڈال جھومے گی پات پات مہکے گی […]

ایسا شہ پارہ مجسم کر دیا خلاق نے

آپ جیسا دلربا دیکھا نہیں آفاق نے ماں نے میرے قلب پر پھونکا تھا اسمِ مصطفیٰ سینت کر رکھا ہوا ہے قلب کے اوراق نے تیرہ و تاریک تھا ظلمت کدہ تھا یہ جہاں کر دیا روشن شہِ کونین کے اشراق نے کیجئے نعمت عطا اپنی محبت کی مجھے قاسمِ نعمت چنا ہے آپ کو […]

دیارِ نور میں جناں کا باغ رکھ دیا گیا

یہیں صراطِ خلد کا سراغ رکھ دیا گیا لٹا رہا ہے مدحتِ امامِ انبیاء کی ضو مرے قلم میں ضوفشاں چراغ رکھ دیا گیا سمجھ لیا نہ جانے اس کو عکسِ عارضِ نبی اسی لئے رخِ قمر میں داغ رکھ دیا گیا شرابِ عشقِ مصطفیٰ کی بوند کا سوال تھا نظر سے ہو گئی بہم، […]

ہم اپنے دل کو ارادت شناس رکھتے ہیں

حضوریوں کے لئے محوِ آس رکھتے ہیں جھکائے رکھتے ہیں پیشانیاں مواجہ پر اطاعتوں پہ وفا کی اساس رکھتے ہیں بلائے جائیں گے اک روز ہم مدینے میں وفورِ شوق کا پہنے لباس رکھتے ہیں عطا ہوا ہمیں اعزاز نعت گوئی کا ہم اپنی فکر سراپا سپاس رکھتے ہیں نگاہ رکھتے ہیں سنگِ درِ رسالت […]

جب اتار دیتا ہوں، حرفِ نعت کاغذ پر

جھوم جھوم جاتی ہے، کائنات کاغذ پر زلفِ معتبر کی لٹ، شعر میں رقم کر دی ہو گئی فدا یکسر، کالی رات کاغذ پر شکر بے عدد یا رب، بارگاہِ مدحت میں بار بار جھکتا ہے، میرا ہات کاغذ پر کس قدر کیا ہم نے، ذکرِ سرورِ عالم قدسیوں نے لکھی ہے، ساری بات کاغذ […]

میں نازشِ مہر و ماہ چہرے کی ایک لمحے کو دید کر لوں

نظر اٹھانے کی ہو اجازت تو اپنی آنکھوں کی عید کر لوں گھرا ہوا ہوں شبِ اجل کے عجیب رنگوں کے وسوسوں میں خیالِ پاپوشِ روحِ عالم سے زندگانی کشید کر لوں میں حرفِ مدحت کے بیچنے کو قبیح حرکت سمجھ رہا ہوں اگر میں چاہوں تو ایک مصرعہ میں ساری جنت خرید کر لوں […]

کاش ابروئے شہِ دین کا جلوہ دیکھیں

تب مرے اشکِ رواں عید کا چہرہ دیکھیں دل کرے صبح و مسا اسمِ محمد کا طواف اور آنکھیں شہِ ابرار کا رستہ دیکھیں اب تو اک جلوے کی خیرات عطا فرما دیں کب سے پھیلا ہے مری آنکھ کا کاسہ دیکھیں مہبطِ شوق ہے ترسیدہ بھی رنجیدہ بھی قصرِ امید پہ ہے ہجر کا […]

جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہوا ہے

اسی در پر سرِ تسلیم خم رکھا ہوا ہے مرا ہر عیب دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر شہِ ابرار نے میرا بھرم رکھا ہوا ہے مجھے تھکنے نہیں دیتا درِ سرکارِ بطحا اسی در کی کشش نے تازہ دم رکھا ہوا ہے یقیناً اشک شوئی آپ فرمائیں گے میری اسی امید پر آنکھوں کو […]

سنا، دیارِ کا سارا حال مجھے

سنا ، دیارِ کا سارا حال مجھے ہوائے کوئے نبی مشک پر نہ ٹال مجھے اڑا کے مجھ کو لیے چل فضائے طیبہ میں فراق و ہجر کی ظلمات سے نکال مجھے تمام زخمِ جگر ہوں سرُور کا باعث اگر حضور سے مل جائے اندمال مجھے مشامِ جان میں اتری عقیدتوں کی دھنک دیارِ نور […]