سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے

نبی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے لیے مقام فیض کی تم کو اگر تمنا ہے درود پڑھتے رہو اپنی بہتری کے لیے اسے بھی اذن حضوری کا شرف مل جاتا تڑپ رہا ہے جو سرکار حاضری کے لیے خدائے پاک نے کیا کیا نہ اہتمام کیا حبیبِ پاک سے ملنے کی اک گھڑی کے […]

عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے

مکینِ خاص مدینے کی اک گلی والا بڑے ادب سے اُس اُمّی لقب کے قدموں میں قلم بھی رکھتا ہے قرطاس عاجزی والا سخن تو حسبِ مراتب نہیں ظہیرؔ کے پاس درودِ سادہ ہے لیکن یہ شاعری والا الٰہیٰ جب بھی فرشتے پڑھیں صلوٰۃ و سلام مرا سلام بھی پہنچے یہ بے بسی والا بنا […]

وہ ایک شخص دو عالم کی سروری والا

شعور دے گیا شاہوں کو سادگی والا ہزاروں چاند ستارے وہ کر گیا روشن وہ اک چراغ تھا سورج کی روشنی والا وہ مُہر ختمِ نبوت، وہ حرفِ آخرِ حق وہ اک رسول رسولوں میں آخری والا قریبِ عرش خدا سے وہ محوِ راز و نیاز زمیں پہ نقشِ اطاعت وہ بندگی والا نگار خانۂ […]

تخلیقِ کائنات کا آغاز آپ ہیں

حرفِ مقطعات کا ہر راز آپ ہیں حسن و جمال رکھا گیا خد و خال میں اخلاق میں مثال ہیں ممتاز آپ ہیں پیغامِ حق ملا ہے انہیں کی زبان سے دراصل اس خدا کی ہی آواز آپ ہیں ہم عاصیوں پہ خاص کرم یہ خدا کا ہے بخشش کا ہیں وسیلہ، اعزاز آپ ہیں […]

ہر دم مری زبان رہے تر درود سے

ہو میری کل حیات معطر درود سے ڈوبا ہوا ہے نور میں ہر لفظ نعت کا قرطاس یوں ہوا ہے منور درود سے عشقِ نبی میں ڈوب کے پالی حیاتِ نو بے ذر بھی بن گیا ہے ابو ذرؓ درود سے وہ اور ہونگے پھرتے ہیں جو در بدر مدام ہم تو سنوارتے ہیں مقدر […]

شغل سب سے بھلا درود شریف

کتنی افضل دعا درود شریف بات اس سے زیادہ اور ہو کیا پڑھتا ہے خود خدا درود شریف اُس کو جنت میں بھیج دے گا خدا دل سے جس نے پڑھا درود شریف مومنوں سہل کیا یہ نسخہ ہے ہر مرض کی دوا درود شریف چاہتے ہو بھلائی گر شیداؔ پڑھتے رہنا سدا درود شریف

سب سے اعلٰی ہیں سب سے برتر ہیں

سارے نبیوں کے آپ سرور ہیں ظلمتوں کا نہ خوف کیجیے کہ آگئے اب ہمارے رہبر ہیں بیٹیاں ہوگئیں ہیں رحمت اب میرے آقا حفیظ دختر ہیں ظلمتوں کے بھرے تناظر میں ہم اسیروں کے آپ یاور ہیں چوٹ کھا کر دعائیں دیتے ہیں حسن اخلاق کے وہ پیکر ہیں عشق والے کہاں کہاں پہنچے […]

قلم کو تھام لیجے عاجزی سے

نبی کی نعت لکھیے سادگی سے جو دل لبریز ہے عشق نبی سے نہیں ڈرتا کبھی وہ جاکنی سے قمر سے خوبرو ہے ان کا چہرہ نہیں تشبیہ دیتا چاندنی سے یہی فرمان ہے میرے نبی کا سلامت آدمی ہو آدمی سے بھلائی کر بھلا تیر ا بھی ہو گا "​سبق ہم کو ملا یہ […]

ہر گلی ہر شہر منور ہے

جشن میلاد آج گھر گھر ہے اس کی نعمت کا تذکرہ کیجیے وہ خدا جو عظیم و برتر ہے جشن میلاد ہم مناتے ہیں کیونکہ سنت یہ رب اکبر ہے ہیں جو بزم رسول کے منکر ان کی حالت تو بد سے بدتر ہے حسن یوسف کو ناز ہے جس پر کتنا پیارا وہ روئے […]

امکان سے وسیع ہوئی ، قد سے سر بلند

قسمت ہوئی جو مدحتِ سرور سے ارجمند جاتی نہیں ہے آپ کے نوکر سے نوکری ہوتے نہیں ہیں آپ کے بندوں کے کام بند آیا ہے پھر بُلاوا درِ خیر بار سے یونہی نہیں ہیں زیست کے اظہار خند خند نسلوں کو دے رہا ہُوں سعادت کی چاشنی ذِکرِ حبیب شِیر ہے ، مدحِ حبیب […]