محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
وابستہ جو ہوئے ہیں ترے شہرِ نُور سے جب تجھ سے مانگنی ہے شفاعت کی خیرِ کُل تجھ کو ہی مانگ لیں گے خُدائے غفور سے ہے اُن کے دستِ ناز میں میری فلاحِ جاں خوف و خطر نہیں مجھے یومِ نشور سے کرتا رہے گا عہدِ محمد کا ہی طواف چھنتا ہُوا جو نُور […]