زبانِ ناقص سے کیا بیاں ہو خدائے برتر کمال تیرا

نگاہ و دل میں سما رہا ہے جلال تیرا جمال تیرا – ترے ہی ایک لفظ کُن کے صدقے میں بن گئی کائنات ساری ازل سے یوم النشور کی شام تک ہے تیرا ہی فیض جاری حسین تر ہے ، عظیم تر ہے ، یہ رتبۂ لازوال تیرا – حیات تجھ سے ، ممات تجھ […]

مجمعِ لطف و عطا ، مرجعِ خیر و توفیق

اللہ اللہ تری طبعِ کرم ، خُوئے خلیق نعت الہامِ مجلیٰ بہ حرائے باطن حرف اور صوت سے ممکن نہیں جس کی تطبیق میری زنبیلِ سخن میں زرِ خیراتِ ثنا سائلِ بابِ کرم ہے مرا جذبِ تشویق درگہِ نعت میں کس طَور ہو تدبیرِ سخن سر نہادہ ہے سخنور کی جہاں فکرِ عمیق نسبتِ نعت […]

خیر کی حرز گاہ نعت شریف

ہے زمانہ پناہ نعت شریف آج بھی شاہدِ نیاز مری کل بھی ہو گی گواہ نعت شریف افتخار و علو و شان و شرَف نازش و عز و جاہ نعت شریف فوز پرور ، نشانِ خیر و فلاح اوج افروز راہ نعت شریف گوشۂ چشمِ التفات ، حضور ! ہے مری داد خواہ نعت شریف […]

یہ خاکداں پہ جو رخشاں ہے شمع دانِ شرَف

شرَف نواز ! یہ تیرا ہے آستانِ شرَف ہے ثبت عالَمِ امکاں پہ معنئ ذِکرَک بیانِ وصفِ پیمبر ہے کُل بیانِ شرَف مدینہ یوں کفِ دستِ زمیں پہ ہے منقوش کہ جیسے خاک پہ چمکا ہو آسمانِ شرَف اُسی کے نقش ہویدا رہیں گے تا بہ ابد ترے جلو میں چلا تھا جو کاروانِ شرَف […]

مالکِ مُلکِ سخا ، صاحبِ کاشانۂ لطف !

خیر آرائے دو عالَم ہے ، ترا ریزۂ لطف حسرتِ حرف میں رہتا نہیں مداح تیرا لب پہ صلِ علیٰ ، ہاتھ میں ہے بُردۂ لطف کیا عجب طُرفہ رفاقت کے نشاں ہیں دونوں دستِ اُمید مرا اور ترا بادۂ لطف جُود پرور ہے ترا نقشِ عطا گنبدِ سبز خیر یاور ہے ترا شہرِ سخا […]

یہی دُعا کی ریاضت ، یہی عطا کے چراغ

فصیلِ شوق پہ روشن ہیں جو ثنا کے چراغ حضور ! ملتی رہے مقتضائے شوق کی بھیک عطا پذیر رہیں حرفِ اقتضا کے چراغ اُنہی کا پر تَوِ تاباں ہیں مہر و ماہ و نجوم فلک فروغ ہیں جو تیرے نقشِ پا کے چراغ رہیں گے راہ نما عرصۂ حیات میں بھی جلیں گے زیرِ […]

کیسے کوئی سمجھے ترے اسرار الٰہی

تو ربِ علٰی مالک و مختار الٰہی یہ چپ مجھے خاموش نہ کر دے ترے ہوتے دے نطق کو اب طاقتِ اظہار الٰہی واصف ہیں ترے برگ و شجر اور پرندے ہے اذنِ ثنا مجھ کو بھی درکار الٰہی یکتائی میں یکتا ہے تو واحد ہے احد ہے تو اول و آخر ہے تو غفار […]

شان ، پہچان اور شرَف کے چراغ

مدحتِ شاہ سے شغَف کے چراغ ضَوفشاں ہیں بہ اوجِ مطلعِ دید ایک دستِ ضیا کی کَف کے چراغ قبر میں بھی چلیں گے ، حشر میں بھی تیری نسبت ، تری طرَف کے چراغ تا ابد نُور بار و ضَو انگیز تیرے نعلینِ پا سے لَطف کے چراغ اُفقِ نعت پر سحَر آثار طلع […]

حرف کے طُرۂ دستار سے اوسع ، ارفع

نعت ہے فکرِ قلم کار سے اوسع ، ارفع گو تمنا ہے ، مگر مدحِ شہِ دیں کا محافظ ہے مرے حیطۂ اظہار سے اوسع ، ارفع ہے کوئی جاں ترے آثارِ محبت سے ورا ؟ ہے کوئی دل ترے انوار سے اوسع ، ارفع ؟ بخدا وسعت و رفعت میں نہیں ہشت بہشت کوچۂ […]

کُن کے کُل التفات کا مطلع

آپ ہیں کائنات کا مطلع آپ کے اسم کا توارد ہے خاورِ شش جہات کا مطلع ہے خیالِ جمالِ شہرِ کرم شوق کی بات بات کا مطلع تابشِ نعت سے فروزاں ہے مقطعِ ممکنات کا مطلع زلف و رُخ سے ہیں مستنیر ہوئے صبح کی تاب ، رات کا مطلع خاتمِ انبیا ہی ہیں لا […]