پار لگ جائیں گے اک دن یہ سفینے آصف

مجھ کو بلوائیں گے سرکار مدینے آصف جتنے ذروں پہ پڑی سیِّد والا کی نظر بن گئے سارے کے سارے وہ نگینے آصف کیا بتاؤں مرے سرکار کا رتبہ کیا ہے کی ہے رب سے بھی ملاقات نبی نے آصف اپنی انگلی کے اشارے سے کریں چاند کو شق شان پائی ہے کہاں؟ ایسی کسی […]

ابتداء حضور ہیں انتہا حضور ہیں

مقتدی ہیں انبیا مقتدأ حضور ہیں پوری آب و تاب سے ساری کائنات میں جو کرے ہے روشنی وہ دیا حضور ہیں باقی سب فریب ہے اور سارا جھوٹ ہے زندگی گزارنے کا ضابطہ حضور ہیں جب نہ تھے ملائکہ اور نہ کائنات تھی حرفِ کُن سے قبل کا واقعہ حضور ہیں اُن کے دم […]

یاد طیبہ کا نگر آنے لگا

حاضری کا شوق تڑپانے لگا بادشاہوں کو بھی شرمانے لگا بھیک جب سے آپ کی پانے لگا آپ کا پُرنور چہرہ دیکھ کر چودھویں کا چاند شرمانے لگا ابرِ رحمت، سن کے نامِ مصطفی بارشِ انوار برسانے لگا تھامنے ان کا کرم آیا مجھے جب غمِ دوراں سے گھبرانے لگا پیار آصف مجھ سے سب […]

یا نبی! دَر پہ بلائیں

گنبدِ خضریٰ دکھائیں خواب میں تشریف لا کر بخت میرے بھی جگائیں زیست کا حاصل یہی ہے جان و دِل ان پر لُٹائیں ورد ہو صلِّ علیٰ کا کیسے غم نزدیک آئیں روشنی گھر بھر میں ہو گی دیپ نعتوں کے جلائیں کیا کوئی میرا بگاڑے جب میرے آقا بچائیں کیا خبر آصف کہ ہم […]

میں دنیا کی شہرت نہ زَر مانگتا ہوں

بس آقا کرم کی نظر مانگتا ہوں نہیں اور کوئی مِرے دل کی خواہش مدینے میں چھوٹا سا گھر مانگتا ہوں وہ ذرے جو نعلینِ پا سے ہوئے مَس میں ان سے وہ لعل وگہر مانگتا ہوں پہنچ جاؤں گا میں بہشتِ بریں میں مدینے کے شام و سحر مانگتا ہوں سرِ حشر جو کام […]

زندگی عشقِ محمد میں گزاری جائے

آخرت اپنی اسی طَور سنواری جائے دیدِ طیبہ کو ترستا ہوں میں اک مدت سے روز دربار پہ یہ بادِ بہاری جائے قافلے والو! مجھے ساتھ ہی لیتے جانا جانبِ طیبہ سواری جو تمہاری جائے حسن دنیا کا بھلا کیسے سما سکتا ہے دل میں تصویر جو طیبہ کی اتاری جائے اُن کے دربار کی […]

جو بھی سرکار کی توصیف و ثنا کرتا ہے

سنّتِ ربِّ دو عالم وہ ادا کرتا ہے خود ہی مشکل میں پڑی ہوتی ہے اس دم مشکل نام مشکل میں جو آقا کا لیا کرتا ہے ہے عقیدہ کہ وہ آتے ہیں مدد کو اس کی جو مصیبت میں صدا ان کو دیا کرتا ہے ٹوٹ جاتا ہے خدا سے بھی تعلق اس کا […]

تاجدارِ اُمم! ہو کرم ہو کرم

دُور ہوں رنج و غم ہو کرم ہو کرم اور کچھ بھی نہیں مانگتا آپ سے ہو کرم! ہو کرم! ہو کرم! ہو کرم! صدقے سِبطَین کے اِذن دے دیجئے آئیں چوکھٹ پہ ہم ہو کرم ہو کرم آپ کے عشق میں کاش! روتا رہوں ہو عطا چشمِ نم ہو کرم ہو کرم ہے دعا […]

رہتے ہیں مرے دل میں ارمان مدینے کے

کب مجھ کو بلائیں گے سلطان مدینے کے روتے ہیں تڑپتے ہیں، کہتے ہیں یہ دیوانے کس روز بنیں گے ہم مہمان مدینے کے اے کاش! مدینے میں سرکار جو بلوا لیں ہو جائیں دل و جاں سے قربان مدینے کے رہتے ہیں سدا ان کے دل کیفِ حضوری میں پڑھتے ہیں قصیدے جو ہر […]

میری زباں پہ محمد کا نام آ جائے

یہی وظیفہ سرِ حشر کام آ جائے خدایا صبحِ مدینہ مجھے بھی دکھلا دے کہ پہلے دید سے میری نہ شام آ جائے میری دعا ہے کہ فضلِ خدا سے دنیا میں میرے حضور کا کامِل نظام آ جائے یہی غلامیِ سرکار کا تقاضا ہے جہاں حضور پکاریں غلام آ جائے میں سمجھوں اوج پہ […]