کتنا پُرکیف سا اُس وقت سماں ہوتا ہے

جب مدینے کی طرف کوئی رواں ہوتا ہے ساتھ لے جائے کوئی عازمِ طیبہ مجھ کو دل کی حسرت ہے مگر ایسا کہاں ہوتا ہے دید کب ہو گی میسر کہ مری آنکھوں سے روز اشکوں سے غمِ ہجر بیاں ہوتا ہے اُسی دربار کا ادنیٰ سا گدا ہوں میں بھی جھولی پھیلائے جہاں سارا […]

ذکرِ سرکار سے ہے فضا مطمئن

پھول، خوشبو، چمن اور ہَوا مطمئن بھیج کر ذاتِ والا پہ پیہم درود ہیں گدائے شہِ دوسرا مطمئن آئی ہے روضۂ پاک کو چوم کر کیوں نہ اڑتی پھرے پھر صبا مطمئن مشکلوں میں جو دی میں نے ان کو صدا مضطرب دل مرا ہو گیا مطمئن میں ازل سے غلامی میں ہوں آپ کی […]

جاہ کا نَے حشم کا طالب ہوں

شاہِ بطحا! کرم کا طالب ہوں کب بھلا جامِ جم کا طالب ہوں میں تو دیدِ حرم کا طالب ہوں جن کا صدقہ سبھی کو ملتا ہے ان کی چشمِ کرم کا طالب ہوں ایک اُن کا مدینہ مل جائے حُور کا نے اِرم کا طالب ہوں ہر گھڑی اُن کی مدح جو لکھّے میں […]

ہے شہروں میں شہ کار، شہرِ مدینہ

نبی کا ہے دربار شہرِ مدینہ سماک و سمک ہوں کہ ہو بیتِ معمور سبھی کا ہے دلدار شہرِ مدینہ یہی ہے تمنا یہی آرزو ہے کہ دیکھوں میں اک بار شہرِ مدینہ شہنشاہِ کونین میرے نبی ہیں ہے شہروں کا سردار شہرِ مدینہ کسی اور جانب نظر کیوں اٹھائے جو دیکھے بس اک بار […]

کیا حسیں میرا مقدر ہو گیا

اُن کے در کا میں گداگر ہو گیا اُن کے در سے مانگنے والا فقیر ہم نے یہ دیکھا سکندر ہو گیا لائے جب تشریف وہ نورِ خدا یہ جہاں سارا منور ہو گیا خواب میں چوما جو ان کا نقشِ پا باطن و ظاہر معطر ہو گیا اس سے بڑھ کون ہو گا خوش […]

ہُوا نہ ہو گا جہان بھر میں ، کوئی رسالت مآب جیسا

بجز نبی کے کسے ملا ہے صحیفہ اُم الکتاب جیسا وہ ایسے اخلاق کے ہیں پیکر، عدو بھی ان کو پکارے صادق کوئی نہ لایا نہ لا سکے گا، وہ لائے ہیں انقلاب جیسا اُنہیں کو رحمت بنا کے بھیجا ، ہے عا لمیں کے لئے خدا نے ملے گا نَے مل سکا کسی کو […]

ہے رحمتِ یزداں کا امیں گنبدِ خضریٰ

سرکار کا وہ نورِمبیں گنبدِ خضریٰ پُر کیف ہے دلکش ہے بہت اِس کا نظارہ اَنگشتری دنیا ہے، نگیں گنبدِ خضریٰ مِل جائے اگر اذن تو سرکار میں دیکھوں پُر نُور وہ کعبہ وہ حسیں گنبدِ خضریٰ ہے کتنا کرم مجھ پہ کہ جس سمت بھی دیکھوں آتا ہے نظر مجھ کو وہیں گنبدِ خضریٰ […]

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا

حسینؓ و حسنؓ فاطمہؓ اور علیؓ کا جہاں بادشہ بھی ہیں دامن پسارے خوشا کہ گدا ہوں میں ایسے سخی کا مدینے میں سرکار مجھ کو بلا لیں میں ہوں منتظر کب سے ایسی گھڑی کا کلامِ خدا، جن و انس و مَلَک میں کہاں پر نہیں ذکر ان کی گلی کا مدینے میں یا […]

عشقِ سرکار میں جو دل بھی تڑپتا ہو گا

اپنا ایمان ہے تا حشر مہکتا ہو گا میرے سرکار کے چہرے کی ضیا ہے اتنی شمس بھی دیکھ کے آنکھوں کو جھپکتا ہوگا جس پہ چل کر میرے سرکار مدینے پہنچے کتنا خوش بخت مدینے کا وہ رستہ ہوگا کیا جلائے گی بھلا نارِ جہنم اس کو جو محبت میرے سرکار سے رکھتا ہوگا […]

محمد مصطفی کو رات دن جو یاد کرتے ہیں

مدینے میں بلا کر آپ اُن کو شاد کرتے ہیں جنہیں رب نے پکارا، رحمۃ للعلمیں کہہ کر میری تو ہر مصیبت میں وہی امداد کرتے ہیں جو رکھتے ہی نہیں دل میں نبی کے عشق کی دولت خدا شاہد ہے اپنی زندگی برباد کرتے ہیں ہوئے بے حال ہیں حالات سے ، للہ خبر […]