جو بھی اُن کی گلی میں آیا ہے

اس نے قدموں کا نور پایا ہے ناز ہے ہم کو ایسی ہستی پر جس کا ثانی نہ کوئی سایہ ہے ہو گیا اُن کے رو برو حاضر گر شجر کو کبھی بلایا ہے ڈھال لو خود کو اُن کی سیرت میں یہی اسلام نے سکھایا ہے جب بھی آیا لبوں پہ نامِ نبی ہم […]

رکھتا ہے جو بھی دل میں عقیدت حضور کی

ہوئی ہے اُس پہ خاص عنایت حضور کی اللہ کا بڑا ہی کرم اُس پہ ہو گیا جس کو عطا ہوئی ہے محبت حضور کی معراج پر ہیں دیکھ کے، حیران جبرئیل وہ عظمت و سیادت و رفعت حضور کی دونوں جہاں میں ہو گیا وہ شخص سرخرو قسمت سے مل گئی جسے قربت حضور […]

وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے

شہرِ سلطانِ مدینہ کی فضا ہی اور ہے شاہِ بطحا کی غلامی کا مزا ہی اور ہے ان کی چوکھٹ پر جو آئے وہ قضا ہی اور ہے کتنے شاہانِ جہاں پلتے ہیں ان کی بھیک پر قاسمِ نعمت ہیں وہ ان کو عطا ہی اور ہے آپ کی مدحت کا ہے اک سلسلہ ام […]

مداوائے رنج و اَلم چاہتا ہوں

حضور ایک چشمِ کرم چاہتا ہوں مجھے اپنی الفت سے سرشار کر دیں نہ دُنیا نہ باغِ اِرم چاہتا ہوں مری آرزو کاش! ہو جائے پوری نکل جائے چوکھٹ پہ دَم چاہتا ہوں خوشی مجھ کو مل جائے گی دو جہاں کی میں دِل میں فقط اُن کا غم چاہتا ہوں حضور آپ کے عشق […]

آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں

دو جگ کے سردار ہوئے ہیں ان کی اطاعت کرنے والے! جنت کے حقدار ہوئے ہیں ان کی رحمت ڈھال بنی ہے جب بھی مجھ پر وار ہوئے ہیں دور ہوئے جو ان کے در سے در در یونہی خوار ہوئے ہیں جو ہیں بھکاری ان کے نگر کے کس نے کہا نادار ہوئے ہیں […]

مہتاب و آفتاب نہ ان کی ضیا سے ہے

جو نور کائنات میں مہرِ حرا سے ہے قاسم ہیں جب حضور تو پھر کیوں نہ سب کہیں جو کچھ بھی مل رہا ہے انہی کی عطا سے ہے کرنا سلام عرض مرا بھی حضور سے اتنی سی التجا مری بادِ صبا سے ہے عشقِ رسولِ پاک میں گزرے تمام عمر میری دعا یہ خالقِ […]

روشن یہ کائنات ہے، سرکار آپ سے

ہر تیرگی کو مات ہے سرکار آپ سے پھیلا ہوا ہے نور دو عالم میں آپ کا تزئینِ شش جہات ہے، سرکار آپ سے یہ جن و انس شمس و قمر بحر و بر گھٹا ہر ایک کو ثبات ہے، سرکار آپ سے ہے آپ ہی کے ذکر سے ہر دن مرا حسیں پُر کیف […]

کرو نہ واعظو! ، حور و قصور کی باتیں

سناؤ مجھ کو فقط تم حضور کی باتیں کبھی ہو ذکرِ مدینہ کبھی ہو ذکرِ رسول تمام عمر ہوں ایسی سرور کی باتیں زبور ہو کہ ہو توریت یا کہ ہو انجیل ہوئی ہیں سب میں نبی کے ظہور کی باتیں خدا کا شکر کہ ایمان بالیقیں ہے مِرا حضور سنتے ہیں نزدیک و دور […]

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

یکسر مری حیات کا نقشہ بدل گیا چشمِ کرم حضور کی جس پر بھی ہو گئی دونوں جہاں کی آفتوں سے وہ نکل گیا شہرِ نبی کی برکتیں دیکھو ہیں کس قدر جو بھی گیا ہے اس کا مقدر بدل گیا شاہوں سے بڑھ کے مرتبہ ایسے گدا کا ہے سلطانِ دو جہاں کے جو […]

رکھتا ہوں دل میں کتنے ہی ارمان آپ کے

قدموں میں پیش کر دوں دل و جان آپ کے کر لیں ہمیں قبول بس اپنی جناب میں سرکار بن کے آئے ہیں مہمان آپ کے دشمن کے جَور و ظلم کو کرتے رہے معاف کس کس پہ اے کریم ہیں احسان آپ کے حسرت ہے آؤں آپ کے دربار پر میں ، پھر ہو […]