پیامِ حق کو جو تنویرِ ہر زماں سمجھے

وہی حقیقتِ امکان و لامکاں سمجھے سفینہ اور ستارے ہیں لازم و ملزوم اگر یہ رمز نہ سمجھے تو دیں کہاں سمجھے؟ وہ راہِ بولہبی پر ہی گامزن ہو گا نبی سے بڑھ کے کسی کو جو راہ داں سمجھے وہی تو پیرویِ مصطفیٰ میں سچا ہے جو دل سے صرف اُنہیں میرِ کارواں سمجھے […]

دشتِ فراق میں ہے دلوں میں عجب کسک

لیکن مشامِ جاں میں بسی ہے وہی مہک دل کی کسک کو جان سکیں گے کہاں ملک اے کاش پھیل جائے اجالا یہ روح تک دل میں بسی ہوئی ہے محبت رسول کی لازم ہے برملا ہو اطاعت رسول کی ایماں کا نور لفظوں میں کافی نہیں جناب ہر حرف کا ہو روح کے ایوان […]

شعرِ عقیدتِ نبی خوب عطا ہوا مجھے

شکر، ہزار شکرِ رب، رزقِ ثنا ملا مجھے عشقِ مجاز کا طلسم، جلد ہی محو ہو گیا شوقِ نوشتِ نعت نے ایسا مزہ دیا مجھے صرف مُطاع ہیں نبی ان کے سوا کوئی نہیں راہِ عمل میں چاہیے آپ کا نقشِ پا مجھے حُبِّ نبی نے کھول دی راہِ نعوت کلک پر ذکرِ نبی نے […]

روضۂ اقدس کو دیکھوں اور دیکھے جاؤں میں

روز و شب اس محویت ہی سے تسلی پاؤں میں دل کے آئینے میں عکسِ روئے انور ہو سدا قلب کو اخلاص آگیں یاد سے چمکاؤں میں دیکھ کر مقصورۂ سرکار یہ دل نے کہا کوئی ساعت کاش اب تو حاضری کی پاؤں میں کر سکوں میں قلب میں تعمیر گھر اللہ کا خانۂ اصنام […]

شجر حیاتِ دو روزہ کا یوں ہرا کر دے

کہ پَتَّہ پَتَّہ فضاؤں کو خوشنما کر دے وہ عزم اُمتِ خیرالوریٰ کو حاصل ہو نفاذِ دین کا دنیا میں حق ادا کر دے فضائے دہر پہ باطل کی حکمرانی ہے ضیائے حق سے ہر اک روح کی جِلا کر دے یہ حکمراں جو بظاہر بڑے مسلماں ہیں اِنہیں ضمیر کی دولت بھی کچھ عطا […]

ایسے اشعار لکھوں جن کی نظیر اور مثال

ایسے اشعار لکھوں جن کی نظیر اور مثال شعرِ مدحت کے خزانے میں بھی عنقا ٹھہرے ! یانبی ! آپ کی تائید و نگاہِ کرمِ خاص کی حاجت ہے کہ اب میرا قلم جوہرِ مدح و ثنا کی نئی دنیا پاجائے یعنی مجھ کو بھی بسانِ حسانؓ شعر کہنے کا سلیقہ آجائے!!!

عاصی تو ہوں مگر مجھے الفت نبی سے ہے

دعوے کو نورِ صدق و صفا کی دلیل دے حبِّ نبی کے صدقے میں ہو مغفرت عطا اظہار کے لیے مجھے فکرِ جمیل دے ۰۰۰ میرا قلم ہو سیف کے مانند اور میں شامل مجاہدینِ قلم میں سدا رہوں سرکار کے طفیل سعادت ملے مجھے میں تا حیات شعرِ عقیدت لکھا کروں ۰۰۰ حَیَّ عَلَی […]

یہ سچ ہے بندگی کی بھی فرصت نہ تھی مجھے

دائم ترے کرم کی ضرورت رہی مجھے ہر شے ہے، میرے رب!تری رحمت کے سائے میں تو نے اسی لیے تو سزا بھی نہ دی مجھے یارب! ترا ہی لطف و کرم چاہیے فقط دے اپنی بندگی کی نئی روشنی مجھے قرآں کے لفظ لفظ میں دیکھا کروں تجھے دیدے خیال و فکر کی پاکیزگی […]

پروردگار! صاحبِ ایمان کیا کریں

تیری زمیں پہ، تیرے مسلمان کیا کریں ہر سمت شیطنت کے مظاہر ہیں میرے رب! ایسے میں چند روز کے مہمان کیا کریں؟ لٹنے لگے ہیں قافلہ ہائے دل و نظر ان کو بچا سکیں، نہیں امکان، کیا کریں؟ بیمار ہیں تمام ہی اہلِ معاملہ بے چینیوں کی روح کا درمان کیا کریں؟ خندق بھی […]

خاکم بدہن کچھ ہیں سوالات بھی سر میں

اللہ! تری مصلحتِ امر و نہی پر ہیں جس کے طفیل آج بھی اعداء ترے آزاد کمزور کو ہے حکم، نصیحت تو انہیں کر کمزور کی آواز دبانے کے لیے بھی ظالم کو ستم ڈھانے کی طاقت ہے مُیسر مسکینوں کی کشتی کو خضر کرتا ہے ناقص پکڑا نہ کبھی اُس نے یہاں دستِ ستم […]