میں بہت ہی ظلم کر بیٹھا ہوں اپنی جان پر

تیری رحمت پر بھروسہ کر رہا ہوں رات دن زندگی ساری گناہوں میں تو میں نے کاٹ دی مغفرت درکار ہے یا رب!کہ ہے ساعت کٹھن ۰۰۰ باقی ماندہ زندگی پَر ہو فقط مُہرِ سُنَن تاکہ میں دکھلا سکوں کوکب بھی کچھ اعمال میں تیرگی کے غار ہی میں نے بسائے ہیں سدا روشنیٔ اُسوۂ […]

یا الٰہی میرے دل میں صرف تو ہی تو رہے

میرے شعروں میں ہمیشہ حمد کی خوشبو رہے وہ خشیت ہو میسر جس سے جنت ہو نصیب دل میں تیری یاد ہو اور آنکھ میں آنسو رہے نور سے تیرے ہی دل معمور ہو رب کریم دور اِس دل سے جمالِ غیر کا جادو رہے حرص و آز اس دل سے یکسر دور کر مولا […]

کیاکروں عرض میں جب رب ہے علیم اور خبیر

کیا کروں عرض میں جب رب ہے علیم اور خبیر میں تو کر لیتا ہوں دل پر ہی دعائیں تحریر سننے والا ہے جو دھڑکن کی زباں میں فریاد میری خواہش کو بنا دیتا ہے میری تقدیر جب بنانی ہو مری بات زمانے میں کوئی وہ سُجھا دیتا ہے اعمالِ حسن کی تدبیر لفظ اَن […]

ربِّ کریم اب مجھے مدح کا کچھ ہنر بھی دے

دامنِ حمد ونعت کو تازہ گلوں سے بھر بھی دے سوز و گداز سے تہی حرفِ ثنا کبھی نہ ہو فکر و عمل کے شہر کو رونقِ بام و در بھی دے نعت لکھوں تو قلب و جاں نور سے جگمگا اُٹھیں حمد کے لفظ لفظ کو جذب و اثر سے بھر بھی دے ہجر […]

خوشا کہ پھر حرمِ پاک تک رسائی ہے

مجھے یہاں مری تقدیر کھینچ لائی ہے حرم میں وحدتِ فکر و عمل نظر آئی محبتوں کی تجلی فضا پہ چھائی ہے یہاں لباس بھی یکساں، عمل بھی ہے یکساں تونگری نے گدائی کی چھب دکھائی ہے بفضلِ ربِّ غفور، اُمتِ رسولِ کریم حرم میں نقطۂ وحدت پہ لوٹ آئی ہے طوافِ کعبہ میں تمیزِ […]

اُسوۂ سرکارِ دو عالم میں ڈھل جاؤں تمام

دین کی ترویج کی کوشش میں گزریں صبح و شام ذُرّیت میری ہو اصحابِؓ محمد پر نثار دین کی ترویج ہر بچّے کا ہو جائے شعار ساری دنیا میں مرے سرکار کا ڈنکا بجے کوئی ’’دین اللہ‘‘ کا باغی نہ دنیا میں رہے رنگ میں اللہ کے سب رنگ جائیں خاص و عام ساری دنیا […]

میرا خامہ جو یا نبی لکھے

روشنائی سے روشنی لکھے جو بھی اُن کا کلام دھرائے ہر زمانے میں آگہی لکھے جس کو مطلوب ہے کمالِ ہنر وہ ہر اِک بات کام کی لکھے یعنی با اہتمام شام و سحر صرف آقا کی بات ہی لکھے اُن پہ بھیجے سدا درود و سلام مدحِ مکی و ابطحی لکھے مہرِ روحانیت کی […]

شمیم پھیل رہی ہے اب اس صداقت کی

حسینؓ ابن علیؓ سے جو ہو گئی منسوب اب اس کی ذات جہاں میں بلند قامت ہے کہ جس کی ذات ہر اِک دور میں رہی محبوب ثبات و عزم کا مینارۂ بلند حسینؓ حصارِ وقت میں جو ہو نہیں سکا محدود وہ آفتاب جو ہر لمحہ تیرگی کے لیے رہِ حیات ہر اِک سمت […]

حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

کُھل گیا قصرِ سخن میں ایک در اشعار کا ساری تخلیقات میں نورِ یقیں جلوہ فگن حمد کے اشعار میں سرمایۂ صد فکر و فن رزقِ فن دیتا ہے جو، اُس کی ثنا ہر لب پہ ہے خیر کی چاہت بھلائی کی دُعا ہر لب پہ ہے ہر سخن کا رُخ زمیں سے آسماں کی […]